پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاسی اختلاف اور احتجاج کا معاملہ محض ایک جماعت کی سرگرمی نہیں رہا بلکہ ریاست حکومت، اپوزیشن، عدالتوں، انتظامیہ اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن کا سوال بن گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ دارالحکومت میں ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائیگی جس سے سڑکیں بند ہوں، شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہو یا امن و امان کی صورتحال خراب ہو۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سیاسی طور پر مضبوط ہے یا کمزور بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست اور سیاسی جماعتیں آئینی اور جمہوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے اس بُحران کو کیسے سنبھالتی ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کا احتجاج سیاسی اور پُر امن جدوجہد کا حصہ ہے۔ پارٹی کی قیادت عمران خان کی رہائی اور ان سے متعلق دیگر مطالبات کیلئے 27 سمتبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا چاہتی ہے۔ خیبر پختونخواہ سے مرکزی قافلے کی تیاریوں اور ملک کے دوسرے حصوں سے کارکنوں کی شرکت کی بات بھی سامنے آرہی ہے خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی مارچ کو پُر امن رکھنے کا اعادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو کئی روز تک سماج بلاک کرنے شاہراہیں بند کرنے یا شہریوں کے معمولات زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کے مارچ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی یہ اصول اپنی جگہ اہم ہے کہ احتجاج جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ حکومت پر تنقید مطالبات پیش کرنا، ریلی نکالنا اور پُر امن احتجاج کرنا سیاسی نظام میں شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے۔ لیکن اس کیساتھ یہ اصول بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ایک شخص یا جماعت کا حق دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کو مکمل طور پر معطل نہ کرے۔ دارالحکومت کی سڑکیں صرف حکومت یا اپوزیشن کی نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے روز مرہ سفر، کاروبار، تعلیم، علاج اور روزگار سے وابستہ ہیں۔ اصل امتحان شاید یہی ہے کہ کیا حکومت احتجاج کے حق اور عوامی زندگی کے تحفظ کے درمیان کوئی قابل عمل راستہ نکال سکتی ہے۔ اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر مکمل اصرار کرتے رہے تو تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اس لئے موجودہ صورتحال میں سیاسی تدبر، مذاکرات اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تشویش کا ایک اور پہلو سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں کی گرفتاریوں سے متعلق اطلاعات ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کی بہنوں سمیت بعض پی ٹی آئی کارکنوں کی حراست کی خبریں سامنے آئی ہیں انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے پُر امن احتجاج اور اظہار رائے کے حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت تاہم ان اقدامات کو امن و امان اور ممکنہ احتجاج کے تناظر میں دیکھ رہی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی اختیار اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ 27 ستمبر کا احتجاج اسی لئے ایک بڑا سیاسی امتحان بن چکا ہے اگر پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو واقعی پُر امن رکھتی ہے قانون اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی سے گریز کرتی ہے اور عوامی شہریوں کے معمولات کو نقصان نہیں پہنچاتی تو حکومت کیلئے بھی ضروری ہوگا کہ وہ طاقت کے استعمال کو آخری راستے کے طور پر دیکھے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی دھرنے اور لانگ مارچ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ہر بار اصل سوال یہی رہا ہے کہ اختلافات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے اس وقت پاکستان کو مزید سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے 27 ستمبر کو کیا ہوگا یہ آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک ہی راستہ موجودہ حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اختلاف کی شدت کو کم کریں۔ 27 ستمبر کا دن تصادم کی نئی داستان بنے گا یا سیاسی بلوغت اور ذمہ داری کی مثال قائم کرے گا۔
٭٭٭













