امریکی پسپائی کی بازگشت یا نئی جنگ کا پیش خیمہ؟

0
11

امریکی پسپائی کی بازگشت یا نئی جنگ کا پیش خیمہ؟

موجودہ عالمی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سے ہر راستہ ایک نئی الجھن کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں دئیے گئے بیانات نے بین الاقوامی مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کو ایک نئی بحث میں الجھا دیا ہے۔ صدر نے یہ اشارہ دے کر سب کو حیران کر دیا ہے کہ وہ چند ہفتوں کے اندر ایران کے ساتھ جاری طویل کشیدگی کا خاتمہ کر کے اپنی افواج کو وہاں سے نکال لیں گے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے اور سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی تھیں۔ تاہم امریکی صدر کے بیانات میں ہمیشہ سے پایا جانے والا تضاد اور ان کی غیر متوقع طبیعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان کے الفاظ کو حتمی سمجھ لیا جائے۔ آج رات قوم سے ان کا خطاب اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوگا کہ آیا واشنگٹن واقعی اپنی دہائیوں پر محیط جارحانہ پالیسی کو خیرباد کہنے والا ہے یا یہ محض ایک سیاسی چال ہے جس کا مقصد اندرونی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ امن کے امکانات فی الوقت انتہائی کمزور نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ تہران کا واشنگٹن پر عدم اعتماد ہے جو گزشتہ چند سالوں کے دوران پیدا ہونے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔ امریکہ نے 2015 ء میں ہونیوالے بین الاقوامی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور اس کے بعد متعدد بار مذاکرات کی میز سے اچانک اٹھ کر جنگی کارروائیاں شروع کر دیں۔ تہران کے حکمرانوں کے نزدیک امریکی قیادت اپنے وعدوں پر قائم رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی نئے معاہدے کی طرف بڑھنے سے کتراتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے خود کو ایک ایسی صورتحال میں محصور کر لیا ہے جہاں سے واپسی کا ہر راستہ نقصان دہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ بحران کسی بیرونی طاقت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ سراسر غلط خارجہ پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کی قیمت اب پوری دنیا کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ کیا امریکہ صرف اعلان کر کے اس جنگ سے پیچھا چھڑا سکتا ہے؟ عسکری ماہرین کے مطابق جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تنہا ایک فریق نہیں کر سکتا کیونکہ میدانِ جنگ میں دشمن کی مرضی اور اس کا ردِعمل بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اگر امریکی افواج خطے سے نکل بھی جائیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی اثاثوں اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہے۔ ایران کا بنیادی مطالبہ معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ ہے اور وہ اس جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے بدلے بھاری مالی معاوضے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایک ایسا ہتھیار ہے جسے ایران کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ اگر یہ آبی گزرگاہ بند رہتی ہے اور امریکہ وہاں سے پسپائی اختیار کر لیتا ہے تو تہران کی حکمتِ عملی کو ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں پر پڑے گا جس سے دنیا بھر میں ایک ایسی معاشی کساد بازاری جنم لے سکتی ہے جس سے خود امریکی معیشت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔دوسری جانب ایک متبادل نکتہ نظر یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ امریکہ کو اس دلدل سے نکل کر باقی دنیا کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کا تحفظ خود کرے۔ چونکہ ایشیائی ممالک خلیجی تیل پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے اس آبی راستے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی انھی پر ہونی چاہیے۔ امریکہ اب خود توانائی کی پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے اس لیے اسے ہر عالمی گزرگاہ کا پہرے دار بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سوچ کے حامیوں کا خیال ہے کہ امریکی انخلاء سے ایران پر بین الاقوامی دباؤ بڑھے گا کہ وہ جہاز رانی کے راستے کھولے کیونکہ اس صورت میں تہران کے پاس اپنی اشتعال انگیزی کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ اس پیچیدہ صورتحال میں ایرانی نڑاد تارکین وطن کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے جو اپنے وطن میں سیاسی تبدیلی کے خواہاں ہیں اور عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی جدوجہد اور اثر و رسوخ کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا کیونکہ وہ مستقبل کے ایران کا ایک نیا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔صدر کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی مہم جوئی میں مزید شدت لائیں اور تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی بڑی زمینی کارروائی کا آغاز کریں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے ساحلی علاقوں یا جزیروں پر قبضے کی کوشش کی تو یہ ایک ایسی لا متناہی جنگ کی شروعات ہوگی جس کا انجام کسی کے قابو میں نہیں رہے گا۔ ایران کی جغرافیائی ساخت اور وہاں کی دشوار گزار زمین کسی بھی بیرونی فوج کے لیے ایک قبرستان ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ روس جیسے ممالک کی جانب سے تہران کو ملنے والی ممکنہ عسکری امداد اس تنازع کو ایک عالمی جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ زمینی جنگ ہمیشہ غیر یقینی صورتحال اور بڑے جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہے اور امریکی عوام شاید اب ایک اور طویل اور بے سود جنگ کی قیمت چکانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کے سامنے اب صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر سفارت کاری کا کٹھن راستہ اختیار کریں یا پھر ایک ایسی مہم جوئی کا آغاز کریں جو ان کی صدارت اور عالمی امن دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here