امریکہ، ایران اور بدلتی عالمی حکمتِ عملی!!!

0
11
ماجد جرال
ماجد جرال

امریکہ، ایران اور بدلتی عالمی حکمتِ عملی کا موجودہ منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور غیر متوقع صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف امریکہ جیسی عالمی قوت ہے جس نے دہائیوں تک دنیا پر اپنی سیاسی، معاشی اور عسکری برتری قائم رکھی، جبکہ دوسری جانب ایران جیسا ملک ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے نظریاتی عزم اور اسٹریٹجک مہارت کی بدولت عالمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ بظاہر یہ مقابلہ غیر متوازن دکھائی دیتا ہے مگر گہرے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمینی حقائق ایک نئی حقیقت کو جنم دے رہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی ہمہ گیر طاقت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ اس کے پاس جدید ترین اسلحہ، مضبوط معیشت اور وسیع عالمی اثر و رسوخ موجود ہے، تاہم حالیہ برسوں میں امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تضادات، طویل جنگوں کے باعث پیدا ہونے والی تھکن اور بین الاقوامی سطح پر اس کے فیصلوں پر بڑھتی ہوئی تنقید نے اس کی ساکھ کو خاصا متاثر کیا ہے۔ اسی دورانیے میں ایران نے نہ صرف اپنی علاقائی پوزیشن کو مستحکم کیا بلکہ ایک ایسی منفرد حکمتِ عملی اپنائی جو روایتی جنگی اصولوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔ایران نے براہِ راست عسکری ٹکراؤ کے بجائے غیر روایتی اور غیر متوازن جنگ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو مختلف خطوں میں پھیلایا ہے اور اپنے دفاعی نظام کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ ایک بڑی طاقت کے لیے بھی اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا اب آسان نہیں رہا۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ امریکہ اپنی تمام تر قوت کے باوجود ایران کے ساتھ براہِ راست جنگی تصادم سے گریزاں دکھائی دیتا ہے اور سفارتی و معاشی دباؤ کو ترجیح دیتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی توانائی کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کا اس علاقے پر جغرافیائی کنٹرول اسے ایک ایسی غیر معمولی برتری دیتا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے تباہ کن اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔اسی حساس نکتے پر چین جیسے ممالک کا کردار بھی نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے جو تیزی سے ایک عالمی معاشی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور اپنی صنعتوں کے لیے توانائی کے بلا تعطل تسلسل کے خواہاں ہیں۔ اگر ایران اور چین کے درمیان تزویراتی تعلقات مزید مستحکم ہوتے ہیں اور ایران آبنائے ہرمز کی نگرانی یا انتظام میں چین کو شریک کار بناتا ہے تو یہ صورتحال امریکہ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن جائے گی کیونکہ واشنگٹن نہ صرف تہران کو محدود کرنا چاہتا ہے بلکہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے عالمی قدموں کو روکنے کی تگ و دو میں بھی مصروف ہے۔ تاہم یہ مفروضہ قائم کرنا کہ امریکہ محض اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا ہو کر اپنے زوال کے قریب پہنچ چکا ہے شاید قبل از وقت ہوگا کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اس وقت تک اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں جب تک وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔امریکہ کے پاس اب بھی یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے اور بدلتی ہوئی دنیا کے نئے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرے۔ موجودہ دور میں محض عسکری قوت ہی بقا کی ضمانت نہیں رہی بلکہ بصیرت افروز حکمتِ عملی، متوازن سفارت کاری اور پائیدار علاقائی اتحاد وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت کا تعین کرتے ہیں۔ ایران نے ان میدانوں میں اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلایا ہے جبکہ امریکہ کو اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کے لیے پرانے ہتھکنڈوں کے بجائے نئے اور حقیقت پسندانہ طریقے اپنانا ہوں گے۔ مستقبل کی عالمی سیاست کا دارومدار اب مکمل طور پر اسی بات پر ہے کہ کون سا فریق بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو بہتر طور پر سمجھ کر اپنی ترجیحات کو درست سمت میں ترتیب دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here