کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر ہونیوالے حالیہ خونی حملے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس بزدلانہ واقعے میں تین بے گناہ نمازیوں امین عبداللہ، منصور قاضی ہا اور نادر عواد نے بچوں کو اپنی ڈھال بنا کر جام شہادت نوش کیا اور انسانیت کے سر کو فخر سے بلند کر دیا۔ اس لرزہ خیز سانحے کے بعد جہاں دنیا بھر میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، وہاں ہیوسٹن کی مرکزی مسجد میں منعقد ہونیوالی ایک حالیہ دعائیہ تقریب نے امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک ایسی نئی اور روشن مثال قائم کی ہے جس کی گونج دیر تک سنائی دے گی۔ اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی یہ شمعیں روشن کرنے کی تقریب اس لحاظ سے انتہائی منفرد اور تاریخی اہمیت کی حامل تھی کہ اس کا انعقاد خود امریکی مسیحی برادری کی والہانہ درخواست پر کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب ظلم اور نفرت حد سے بڑھنے لگتے ہیں تو تمام الہامی مذاہب اور انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے طبقے اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس پرتاثر تقریب میں نہ صرف مقامی مسلم رہنما بلکہ دنیا بھر کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی یکجا دکھائی دئیے۔ پاکستان، عرب ممالک، فلسطین، مصر، بنگلہ دیش، روس اور ہندو برادری کے وفود کے ساتھ ساتھ یہودی اور مسیحی برادری کے اعلیٰ مذہبی پیشواؤں نے بھی کندھے سے کندھا ملا کر شرکت کی۔ ہیوسٹن کی مرکزی مسجد کا احاطہ اس وقت گہرے جذباتی مناظر کا گواہ بنا جب تمام شرکاء نے نسل، رنگ اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر سان ڈیاگو کے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ ان جلتی ہوئی شمعوں کی روشنی دراصل اس عزم کا اظہار تھی کہ انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا کے پھیلاؤ کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی سوسائٹی کو خوف کے سائے میں جینے دیا جائے گا۔
تقریب کے دوران مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات کے بیانات نے شرکاء کے حوصلوں کو مہمیز کیا۔ امریکی ایوان نمائندگان کے سرکردہ رکن ایل گرین نے اس موقع پر نہ صرف متاثرین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا بلکہ انہوں نے عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو بھی شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے دنیا میں امن کا علمبردار رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پاکستان کی قربانیوں اور مخلصانہ کوششوں کا کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی امن کی خاطر پاکستانی کوششوں کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔ اسی طرح ممتاز سیاسی رہنما طاہر جاوید نے تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ آج مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کا یہ اجتماع اس بات کی گواہی ہے کہ نفرت اور تعصب کو شکست دینے کے لیے تمام مذاہب اور کمیونٹیز ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مذموم کارروائیاں ہمیں تقسیم کرنے کے بجائے ہمارے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنتی ہیں۔
اس موقع پر موجودہ حساس صورتحال اور مساجد کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ اسلامک سوسائٹی کے صدر عمران غازی نے شرکاء کو مطلع کیا کہ تمام مذاہب کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا گیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام مساجد اور اسلامی مراکز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی سیکورٹی فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ اقدام مسلم کمیونٹی کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔ اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ہیوسٹن سٹی کونسل کی رکن لاتیشیا پلمر نے بھی تمام منتخب نمائندوں کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ معاشرے سے نفرت انگیزی، مذہبی منافرت اور ہر قسم کے نسلی تعصب کے جڑ سے خاتمے کے لیے قانون سازی اور سماجی سطح پر اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔
سچی بات یہ ہے کہ سان ڈیاگو کا سانحہ کسی ایک گروہ یا مذہب پر حملہ نہیں تھا، بلکہ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ اقدار پر وار تھا۔ لیکن ہیوسٹن کی مسجد میں منعقدہ اس دعائیہ تقریب نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ گولیوں کی آواز پر محبت، امن اور باہمی احترام کی آواز ہمیشہ بھاری رہے گی۔ جب تک دنیا میں ایسے بین المذاہب اجتماعات ہوتے رہیں گے اور لوگ ایک دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھتے رہیں گے، تب تک انتہا پسندی کے اندھیرے کبھی بھی انسانی معاشرے پر مستقل غالب نہیں آ سکتے۔















