ٹرمپ کا بینکوں کے ذریعے غیر قانونی تارکین کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن

0
2

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک نئے اور انتہائی سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جس کے تحت گرین کارڈ کے قوانین، بینکنگ کی نگرانی اور ملک بدری کی عدالتوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ان نئے اقدامات کا بنیادی مقصد ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا اور ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت عارضی ویزا رکھنے والے زیادہ تر افراد کے لیے اب یہ لازمی ہوگا کہ وہ گرین کارڈ کے حصول کے لیے اپنے آبائی ملکوں کو واپس جائیں، کیونکہ امریکہ کے اندر رہتے ہوئے ویزے کی حیثیت تبدیل کرنے کی سہولت کو انتہائی محدود کیا جا رہا ہے اور صرف غیر معمولی کیسز میں ہی ملک کے اندر کارروائی کی اجازت ہوگی۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر مالیاتی نظام کے ذریعے بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور ایک نئے صدارتی حکم نامے کے تحت بینکوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن سے منسلک مشکوک مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی اور نشاندہی کریں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس مالیاتی دباؤ سے لوگ خود ہی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے ذاتی معلومات کے تحفظ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری طرف عدالتی نظام میں 82 نئے ججوں کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ تارکین وطن کے مقدمات کے ساڑھے 3 ملین سے زائد کے بڑے بیک لاگ کو ختم کر کے ملک بدری کے فیصلوں کو تیز کیا جا سکے۔ جہاں ایک طرف حکومت ان اقدامات کو ملکی سلامتی اور سرحدوں کے کنٹرول کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، وہاں دوسری طرف ہیومن رائٹس گروپس اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کی انتظامیہ اس کی سخت مخالفت کر رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے تارکین وطن برادریوں میں خوف پھیلے گا اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here