نیویارک (پاکستان نیوز)نامور سیاسی و معاشی ماہرین کے حلقوں میں اس وقت شدید ہیجان پایا جاتا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالیاتی گوشواروں سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ انہوں نے صدارتی دور کے دوران اور اس کے بعد بھی وال سٹریٹ کی حصص مارکیٹ میں غیر معمولی اور مشکوک تجارتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کے پورٹ فولیو میں ہزاروں کی تعداد میں حصص کی خرید و فروخت کی گئی جس نے شفافیت اور اخلاقی اصولوں پر مامور اداروں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی جمہوریت اور مالیاتی نظام کے منہ پر طمانچہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکوک ترین حصص کے سودوں نے صدارتی منصب کی ساکھ کو خاک میں ملا دیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے کھاتوں سے گذشتہ تین ماہ میں 3711 سے زائد خرید و فروخت کے احکامات جاری کیے گئے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر 50 سے زائد سودوں کی اوسط بنتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان تجارتی سودوں میں ان بڑی ٹیکنالوجی اور دفاعی کمپنیوں کے حصص شامل تھے جن کو براہِ راست وائٹ ہاؤس کے فیصلوں اور حکومتی پالیسیوں سے فائدہ پہنچ رہا تھا۔ دفاعی سامان بنانے والے اداروں اور سیمی کنڈکٹر چپ بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری عین اس وقت کی گئی جب حکومت ان کے حق میں بڑے فیصلوں کی توثیق کر رہی تھی۔ اگرچہ ٹرمپ کے وکلاء کا دعویٰ ہے کہ یہ سرمایہ کاری ایک خود مختار تیسرے فریق کے ذریعے کی جا رہی تھی اور صدر کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا، تاہم ماہرینِ اخلاقیات نے اس دفاع کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مفادات کا براہِ راست تصادم اور عوامی اعتماد کی کھلی خلاف ورزی ہے جس نے امریکی سیاسی تاریخ میں ایک تاریک ترین مثال قائم کر دی ہے۔










