قوموں کے عروج کا تعلق تعلیم اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے اور معاشرے میں وہی قومیں یا لوگ ترقی کرتے ہیں جو ڈسپلن، قانون اور قاعدے کے پابند ہوا کرتے ہیں۔ جہاں تعلیم کو فوقیت اور ٹیکنالوجی کو خصوصیت حاصل ہو، وہاں معاشرہ ترقی کی منازل بہت جلد طے کرتا ہے جیسا کہ چین گزشتہ تین دہائیوں میں ایک بڑی معاشی قوت بن کر ابھرا ہے۔ اس کے برعکس ہم معاشرتی طور پر مسلسل تنزلی کی طرف جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ تعلیم پر عدم توجہی اور ڈسپلن کی کمی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم سرکار کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے لیکن ہمیں تاحال اپنی سمت کا علم نہیں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ملک میں تعلیم کو مکمل طور پر کمرشل کر دیا گیا ہے، سرکاری اسکولوں کو بند کیا جا رہا ہے اور غریب اور متوسط طبقے کے لیے حصول تعلیم کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پیش کیے گئے وفاقی بجٹ 2026 ـ27 میں دفاع کے لیے مختص رقم 2550 ارب سے بڑھا کر 3000 ارب روپے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 838 ارب سے بڑھا کر 850 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف تعلیم کا بجٹ 93 ارب سے کم کر کے 74 ارب اور صحت کا بجٹ 80 ارب سے گھٹا کر محض 22 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ عوام یہاں سے حکمرانوں کے طرز سیاست اور قوم کے مستقبل کے لیے ان کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ کرپشن اور ناانصافی نے معاشرے کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر افسر اور سیاسی لیڈر کا پروٹوکول غریب عوام پر بوجھ بن چکا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ میں اس طرح کی موج مستیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ سیاسی کرپشن کی وجہ سے چھوٹا بڑا تمام بزنس کرپشن زدہ ہو چکا ہے، ہر چیز میں ملاوٹ اور دھوکہ عام ہے جبکہ خالص اشیاء کا وجود ہے نہ ہی کوئی پرائس کنٹرول سسٹم نافذ ہے جس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ماہ رمضان کے حوالے سے ایک واقعہ سامنے آیا کہ ایک غیر مسلم مزدور شام کو کام سے واپس آکر اپنی پریشان بیوی سے کہتا ہے کہ فکر نہ کرو، مسلمانوں کا مقدس مہینہ گزر لینے دو، چیزیں خود ہی سستی ہو جائیں گی۔ جہاں مسلمان تاجروں کا یہ حال ہو کہ وہ ماہ رمضان میں چیزیں مزید مہنگی کر دیں اور لوگوں کے لیے آسانیوں کی بجائے مشکلات پیدا کریں، وہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسی قوم اور لوگ خوف خدا سے بالکل عاری ہو چکے ہیں۔ جب حکمران کرپٹ ہوں تو عوام میں بھی کرپشن کے جراثیم سرایت کر جاتے ہیں جبکہ حکمران ایماندار اور عادل ہوں تو رعایا پر ان کا مثبت نقش دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ایماندار شخص نہ خود چوری کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو چوری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی اشرافیہ اسلامی قانون کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلامی طرز حکومت میں جیل ہی ان کا مقدر بنے گی۔
یہ سیاستدان ووٹ کے لیے جب عوام میں جاتے ہیں تو جھوٹے وعدے کرتے ہیں مگر الیکٹ ہونے پر سب کچھ بھول جاتے ہیں، بفضلہ تعالی ہمارے لیڈروں کا حال صدقے جاواں تے کم نہ آواں جیسا ہے۔ مصر میں ہر سال مردہ فرعونوں کو دیکھنے لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں جس سے وہاں کی حکومت کو کافی کمائی ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے زندہ فرعون قوم کے اربوں ڈالرز کھا چکے ہیں اور انہیں نہ کوئی شرم ہے اور نہ ہی غیرت۔ ان لوگوں کو نہ عوام کا احساس ہے اور نہ ہی خوف خدا، یہاں تک کہ تمام سیاسی پارٹیوں کا حال بھی عوام کے سامنے ہے۔ اقتدار سے باہر ان کے بیانات عوام کی ہمدردی میں ہوتے ہیں لیکن اقتدار پر براجمان ہوتے ہی سب کچھ بھول جانا ان کی فطرت بن چکا ہے۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور فضل الرحمن سبھی اقتدار پر قابض رہے ہیں لیکن نہ معیار تعلیم بہتر ہوا، نہ نظام صحت درست ہوا، نہ مہنگائی کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی بے روزگاری کم ہوئی۔ عوام کو نہ انصاف ملا اور نہ ہی اس کی کوئی امید نظر آئی کیونکہ یہ سبھی جماعتیں اقتدار کے بھوکوں اور ابن الوقتوں کا ٹولہ ہیں جن کا کام صرف لوٹو اور پھوٹو ہے۔
موجودہ صورتحال میں نوجوان نسل شدید مایوس ہے اور ایسے میں جماعت اسلامی نے ملک کے طول و عرض سے بیس لاکھ نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فری تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو ملک و قوم سے مخلص ہے۔ زندگی کا ایک طویل حصہ جماعت اسلامی کے ساتھ گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہا جا سکتا ہے کہ کبھی بھی کسی رہنما یا سیاسی ورکر کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف یا غیر نظریاتی گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا گیا۔ جماعت اسلامی سے جڑے لوگوں کا پاکستان کے ساتھ وفا کرنا ان کے ایمان کا حصہ ہے اور ایسی وفاداری ملک کی کسی دوسری مذہبی یا سیاسی جماعت میں تلاش نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کو اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اس تحریک کے ساتھ وابستہ افراد دوسری سیاسی جماعتوں سے کردار میں کہیں بہتر نظر آتے ہیں اور کرپشن کے میدان میں جماعت اسلامی کے کسی رکن قومی و صوبائی اسمبلی یا سینیٹ کا نام آج تک سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ان پر انگلی اٹھا سکتا ہے۔
اس کے برعکس پورے ملک میں ہر طرف کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے، نہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں اس لعنت سے محفوظ ہیں اور نہ ہی ملک کے دیگر ادارے اس سے پاک ہیں۔ عوام مہنگائی، ناانصافی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آ چکے ہیں، ملک میں سرکاری تعلیمی نظام اور سرکاری ہسپتال تباہی کے مناظر پیش کر رہے ہیں جبکہ سب کچھ پرائیویٹ اسکولوں اور ہسپتالوں کے حوالے ہو چکا ہے۔ ملک میں کہیں بھی حکومتی رٹ نظر نہیں آ رہی اور لوگوں کو روزگار کی بحالی کی کوئی امید بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ان تمام حالات کی بنیاد پر لوگ قومی سوچ اور اجتماعی مفادات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور پورے ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں ملک کو ایک سنجیدہ اور باکردار قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تمام مسائل اسی کرپٹ نظام کی بنیاد پر پیدا ہوئے ہیں جو ماضی کے حکمرانوں کا تحفہ ہے۔
جماعت اسلامی آج پاکستان اور اس ملک کے عوام کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے اور اس کے سوا کوئی اور حل موجود نہیں جو ملک کے حالات بہتر کر سکے۔ جب تک ہم اس کرپٹ نظام سے اپنی جان نہیں چھڑائیں گے، اس وقت تک پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ جس جماعت کا ماضی اس کی شرافت اور دیانت کی گواہی دے، وہی جماعت اس ملک کے نظام کو بہتر کر سکتی ہے۔ قوم نے تمام جماعتوں کی باریوں کا مزہ چکھ لیا ہے اور خوشحالی، مساوات اور تبدیلی کے دعویداروں کو بھی دیکھ لیا ہے، اس لیے اب عوام کو اپنے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے ان منافق سیاستدانوں سے جان چھڑانی چاہیے کیونکہ یہ ووٹ کے حقدار نہیں ہیں اور انہوں نے ملک و قوم سے دھوکہ کیا ہے۔ ملک کی ترقی، کرپشن کے خاتمے اور لٹیروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے واحد حل جماعت اسلامی ہے جو مفت تعلیم، صحت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے واحد امید بن کر ابھری ہے۔ عوام نے جماعت اسلامی کے علاوہ سب کو بار بار آزما کر دیکھ لیا ہے جو عوام کے صدقے تو جاتے ہیں لیکن ان کے کام نہیں آتے۔
یہاں فیصلے ہمیشہ ایک بڑی طاقت کی مرضی سے ہوتے ہیں، چاہے ایم کیو ایم کراچی کو بوری بند لاشیں دے یا پیپلز پارٹی سندھ کو برباد کرے، کبھی الطاف اور کبھی نواز شریف، کبھی عمران خان اور کبھی شہباز شریف کو مسلط کرنا انہی کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ جب چاہیں جسے چاہیں مسیحا بنا دیں اور جب چاہیں دہشت گرد قرار دے دیں، جب جی چاہے انڈین ایجنٹ قرار دے کر گھر سے انڈین کرنسی برآمد کرا لیں، غرض جو مزاج یار میں آئے۔ یہ پورا نظام اور سسٹم عام آدمی کو کچل رہا ہے اور بدمعاشوں اور کرپٹ عناصر کو تحفظ فراہم کرتا ہے جس میں غریب اور کمزور کے لیے صرف مشکلات ہیں۔ اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ نظام عوام کے ووٹ کی طاقت سے بھی تبدیل نہیں ہو سکا اور گزشتہ ستر سال سے عوام کو کچل رہا ہے۔ جہاں فیصلے چند جرنیل کرتے ہیں جو عوامی ضروریات زندگی اور پریشانیوں سے بالکل نابلد ہیں، وہاں روایتی سیاستدان اور روایتی پارٹیاں محض ان کے اشاروں پر چلنے والے مہرے ہیں جو مل بانٹ کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ یہ طاقتور حلقے جب چاہیں جسے چاہیں غدار اور ملک دشمن بنا دیں اور جسے چاہیں اقتدار کی مسند پر بٹھا دیں۔
پاکستان کو اللہ رب العزت نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور امریکہ و ایران کے مابین حالیہ سفارتی پیش رفت اور معاہدہ اس صدی کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اب ملکی حالت پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے، خصوصاً کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے، ملک میں مہنگائی میں کمی لانی چاہیے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنی چاہئیں تاکہ عوام اشیائ خوردونوش باآسانی خرید سکیں۔ مالک و خالق سے دعا ہے کہ وہ ملک و ملت کو پاکستان سے مخلص اور عوام کے دردمند حکمران نصیب فرمائے، ملک و قوم کی حفاظت فرمائے، ان ناسوروں سے چھٹکارا عطا کرے اور وطن عزیز کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔















