نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ کے دوسرے صدر جان ایڈمز نے دو صدیوں سے بھی پہلے یہ انتباہ دیا تھا کہ جمہوری نظام کسی غیر ملکی دشمن سے پہلے اپنی غفلت، لاپروائی اور بنیادی اصولوں کی پامالی کے باعث خودکشی کر لیتا ہے۔ آج امریکا کا قومی قرضہ 40 کھرب ڈالر کی تشویشناک سطح کے قریب پہنچ رہا ہے جس نے اس پیشگوئی کو تشویشناک حد تک سچائی کے قریب کر دیا ہے۔ بظاہر امریکی معیشت میں روزگار کے وافر مواقع اور مالیاتی منڈیوں کی بلندی کے باعث استحکام دکھائی دیتا ہے، مگر پس منظر میں بڑھتا ہوا قومی قرضہ ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہر سال امریکی بجٹ کا خسارہ 2 سے 3 کھرب ڈالر بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملکی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 125 فیصد سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ عسکری اور معاشی ماہرین طویل عرصے سے اس راستے کو قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقوام نے مالیاتی نظم و ضبط کو نظرانداز کیا تو وہ زوال پذیر ہوئیں۔ ماضی میں یونان کا معاشی بحران یورپی یونین کی مدد سے ٹل گیا تھا، لیکن امریکا کی معیشت اتنی بڑی ہے کہ اس کے بیٹھنے کی صورت میں دنیا کا کوئی ادارہ اسے سہارا نہیں دے سکے گا۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا امریکی قرضوں پر سے اعتماد ختم ہو گیا تو شرحِ سود میں خوفناک اضافہ ہوگا، جس کے بعد پیدا ہونے والا معاشی بحران عظیم کساد بازاری سے بھی زیادہ ہولناک ہوگا۔ اس بھیانک انجام سے بچنے کے لیے امریکی عوام کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے واشنگٹن کے حکمرانوں پر فوری اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالنا ہوگا۔









