ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سینئر عہدیدار کا ٹرمپ پالیسیوں کیخلاف احتجاجاً استعفیٰ

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ہوم لینڈ سیکیورٹی اسٹیٹسٹکس کی قیادت کرنیوالے سینئر ترین ماہر مارک روزن بلوم نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن، وفاقی ملازمین اور حقائق کے خلاف جاری پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ حکومت کے ساتھ اپنے کام کے خاتمے کو راحت کا باعث قرار دیا۔ روزن بلوم کے مطابق ان کی ٹیم نے 10 سالوں میں وفاقی ادارے کے ڈیٹا پروسیسنگ کے نظام کو انتہائی جدید اور شفاف بنایا، تاہم موجودہ قیادت کے دور میں کام کا ماحول سخت اور ناسازگار ہو چکا تھا۔ ان کے استعفے کے بعد دائیں بازو کے بعض خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا کہ روزن بلوم ملک بدری اور غیر قانونی آبادی کے اعداد و شمار کم بتا کر ڈیٹا خراب کر رہے تھے، تاہم امریکی امیگریشن کونسل کے ماہرین نے اس دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق روزن بلوم نے ٹرمپ کی پہلی اور بائیڈن حکومت کے ادوار میں ماہانہ بنیادوں پر گرفتاریوں اور ملک بدری کا شفاف ترین ڈیٹا شائع کرنے کی روایت قائم کی، جسے ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کی شروعات کے بعد سے بلاک کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے حال ہی میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، جہاں صرف 5 دن کے عرصے میں 10000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ان آپریشنز کے دوران کم از کم 11 افراد کی جانیں بھی گئیں۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ سنگین مجرموں کو نشانہ بنا رہی ہے، لیکن جاری کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ حراست میں لیے گئے 220000 افراد میں سے 10000 سے بھی کم کا کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام سے حقیقی حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here