امریکہ میں گوشت خور کیڑے کے پھیلاؤ کا خطرہ مویشیوں کی تجارت پر پالیسی میں تبدیلی

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز)حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں مویشیوں کو شدید نقصان پہنچانے والے گوشت خور کیڑے نیو ورلڈ اسکرو ورم کے پھیلتے ہوئے خدشات نے ٹرمپ کی انتظامیہ کو آئندہ مڈ ٹرم انتخابات سے قبل اپنی معاشی اور زرعی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی وزارت زراعت نے ملک میں گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نیچے لانے کی کوششوں کے تحت میکسیکو سے مویشیوں کی در آمد پر عائد پابندی میں جزوی طور پر نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ سال سے جنوبی سرحدی راستے بند رکھے گئے تھے تاکہ اس خطرناک طفیلی کیڑے کو امریکی سرحدوں کے اندر پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تاہم سیاسی دباؤ اور معاشی ضروریات کے پیش نظر امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ریاست ایریزونا کی ایک سرحدی بندرگاہ کو 24 اگست سے مویشیوں کی تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی نیو میکسیکو کی سرحد پر بھی 2 دیگر راستے کھولنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ریاست ٹیکساس کی سرحدوں کو فی الحال بند رکھا جائے گا۔ امریکی وزیر زراعت بروکس رولنز کا کہنا ہے کہ اس کیڑے کو امریکہ سے باہر رکھنا اور اس کا خاتمہ کرنا حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے۔ اس سے قبل جون کے شروع میں ٹیکساس کے گورنر گرگ ایبٹ نے اس کیڑے کی وجہ سے مویشیوں اور جنگلی حیات کو درپیش خطرات کے باعث ریاست میں آفت کی صورتحال کا اعلان کیا تھا۔ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے گوشت کی قیمتیں کنٹرول کرنا حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here