سٹوڈنٹ لون؛کریڈٹس واپس لینے کا فیصلہ

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عوامی خدمات سے وابستہ ہزاروں افراد بالخصوص اساتذہ، نرسوں اور غیر منافع بخش اداروں کے کارکنوں کو دئیے گئے طالب علم قرضوں کی معافی کے کریڈٹس واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پولیٹیکو کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے باعث ہزاروں مقروض افراد کے قرضے معاف ہونے کے سفر کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پبلک سروس لون فارگیو نیس پروگرام کے تحت دی جانے والی اس راحت کو واپس لینے کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ نے سابقہ بائیڈن انتظامیہ کے دوران پیدا ہونے والی کوڈنگ کی غلطیوں اور ڈیٹا کی خامیوں کو قرار دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی ترجمان ایلن کیسٹ کے مطابق ان غلطیوں کی وجہ سے کچھ افراد کے ادائیگی کے اعداد و شمار میں غیر یقینی اور غلطیاں آئیں، جنہیں اب درست کر کے متاثرہ افراد کو اطلاع بھیج دی گئی ہے۔ تاہم کنزیومر فنانشل پروٹیکشن بیورو کے سابق اہلکار جولیا بارنارڈ نے اس اقدام کو شدید سنگدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن غلطیوں میں قرض داروں کا کوئی قصور نہیں ان کا خمیازہ انہیں نہیں بھگتنا چاہیے۔ امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز کی صدر رینڈی وائن گارٹن نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اپنے قرضوں کی معافی کے قریب پہنچنے والے ملازمین کو مزید مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر محکمہ تعلیم نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو وہ اپنے ارکان کے تحفظ کے لیے عدالت سمیت ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ اس انتظامی فیصلے سے ہزاروں عوامی خدمت گاروں کے مستقبل کے منصوبے اور قرضوں سے آزادی کا خواب مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here