افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ ٹھکانہ

0
7

نیویارک (پاکستان نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کابل میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر عرب نیوز کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان انتظامیہ نہ صرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کر رہی ہے بلکہ خود خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایک پراکسی کا روپ دھار چکی ہے۔ پاکستانی مندوب نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے سرحدی حالات پر دیے گئے خدشات کی تائید کرتے ہوئے سکیورٹی صورتحال کو انتہائی ابتر قرار دیا۔ عاصم افتخار کے مطابق 2021 میں عالمی برادری نے طالبان کے سامنے تین اہم شرائط رکھی تھیں جن میں تمام گروہوں پر مشتمل جامع حکومت کا قیام، خواتین اور بچیوں کے حقوق کی پاسداری اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا شامل تھا۔ تاہم پانچ برس گزرنے کے باوجود ان تمام مطالبات پر پیش رفت کے بجائے مسلسل تنزلی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں سال 2025 کے دوران 5200 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 3000 سے زائد حملوں میں 830 سے زائد شہری اور سکیورٹی اہلکار جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید برگیڈ پر عائد ہوتی ہے جنہیں افغان سرزمین سے سہولیات، جدید اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کابل پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here