بارسلونا (پاکستان نیوز) اوور سیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن کے چیئرمین اختر ظہیر احمد نے سپین میں مقیم 30 ہزار پاکستانیوں کا مستقبل بچانے کیلئے حکومت پاکستان اور اعلیٰ حکام کے نام خطوط میں مطالبہ کیا ہے کہ سپین کی مستقل شہریت کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی فوری مدد کی جائے اور پاکستانی دستاویزات کے بغیر وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن کوپاسپورٹ کے اجراء سے قبل سپین کے پولیس سٹیشنز میں رپورٹ کرنے کی شرط عارضی طور پر معطل کی جائے۔ اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف ، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار ، وزیر داخلہ سید محسن نقوی ،وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور ڈائریکٹر جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی کے نام ایک کھلے خط میں اس اہم معاملے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ سپین کی حکومت نے پچیس سال بعد غیر دستاویزی باشندوں کے لیے ایک تاریخی پالیسی جاری کی ہے جس سے 30 ہزار ایسے پاکستانیوں کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا نادر موقع ملا ہے جو وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور اب اس پالیسی سے فائدہ اٹھا کر سپین میں مقیم غیر دستاویزی پاکستانیوں کا نہ صرف روزگار محفوظ ہو گا بلکہ انھیں ہسپانوی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونے کا نادر موقع بھی مل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن کے چیئرمین اختر ظہیر احمد، وائس چیئرمین ملک سلیمان ، شیخ شکیل، چودھری ذوالفقار ، فرحان مہر، علی راشد بٹ، محمد سلیمان گوندل، سہیل مقصود وڑائچ اور لیگل ایڈوائزر شیراز خان و دیگر عہدیداران نے کہا ہے کہ ان ہزاروں پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دلوانے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت وطن عزیز پاکستان کا پاسپورٹ نہیں ہے۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مختلف اور دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوے سپین پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اوراس وقت پاکستان کے لئے قیمتی زر مبادلہ بھیجنے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان نے ایسے تارکین وطن کے لئے یہ پروٹوکول و شرط عائد کر رکھی ہے کہ انھیں پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کیلئے مقامی ہسپانوی پولیس کو رپورٹ کرنا لازم ہے جس کی وجہ سے پورے سپین میں پولیس اسٹیشنوں کے باہر کئی دن سے لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جس سے مقامی حکام بھی عاجز آچکے ہیں۔ اس لازمی شرط کو پورا نہ کرنے کے باعث بہت سے پاکستانی تارکین وطن بر وقت ضروری دستاویزات حاصل کرنے سے قاصر ہیں جس وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے عائد کی گئی اس شرط کا سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستانیوں کو ہو سکتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن نے حکومت پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سپین میں موجود پاکستانی تارکین وطن کوپاسپورٹ کے اجراء میں فوری مدد کی جائے۔ علاوہ ازیں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ غیر معمولی حالات اور سپین کی پالیسی کے محدود وقت کے پیش نظر،حکومت پاکستان غیر دستاویزی پاکستانیوں کے لیے پولیس رپورٹ کی شرط کو عارضی طور پر ختم کر دے تاکہ یہ افراد سپین کی نئی قانون سازی کی پالیسی سے استفادہ کر سکیں اور سپین کے قانونی شہری بن کر وطن عزیز کی بہتر طور پر خدمت کر سکیں۔





