اسلام آباد(پاکستان نیوز) مالی سال 2024-25کے دوران سرکاری اداروں (ایس او ایز)کامجموعی منافع میں 13 فیصد کمی کے ساتھ 820.7 ارب روپے سے کم ہو کر 709.9 ارب روپے رہ گیا ، وزارتِ خزانہ نے خبردارکیاہے کہ ایس او ایز کے بڑھتے ہوئے قرضے پاکستان کی مالیاتی استحکام اور معاشی ترقی کیلیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں،ان اداروں کی جانب سے حکومت کوفراہم کی جانیوالی خالص نقد واپسی تشویشناک حد تک کم ہوگئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کیسالانہ مجموعی کارکردگی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران سرکاری اداروں کو 2.1 کھرب روپے کی مالی معاونت فراہم کی،مگر اس کے بدلے میں خالص واپسی محض 40.7 ارب روپے رہی۔ رپورٹ کے مطابق خالص مالی بہاؤگزشتہ سال کے 458.2 ارب روپے سے کم ہوکر صرف 40.7 ارب روپے رہ گیا،جو 91 فیصدکمی ظاہرکرتاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ سرکاری اداروں کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات،حکومتی ضمانتوں،سبسڈی اورسرکلر ڈیٹ پر انحصار نے قومی خزانے پربوجھ بڑھادیاہے،رپورٹ میں تیل وگیس کے شعبے میں بھی خدشات ظاہرکیے گئے ہیں،سرکلر ڈیٹ کے باعث شدیدمالی دباؤکاسامناہے،پی ایس اواور بجلی کے شعبے سے واجبات کی تاخیر نے لیکویڈیٹی کے مسائل کومزیدبڑھادیاہے۔وزارتِ خزانہ نے خبردارکیاہے کہ اگر سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط یقینی نہ بنایاگیا توصورتحال نہ صرف قومی خزانے پردباؤ بڑھائے گی،بلکہ ملکی معاشی استحکام کو بھی متاثرکریگی۔رپورٹ کے مطابق مجموعی خسارے میں معمولی بہتری آئی اور یہ 851.4ارب سے کم ہو کر 832.8ارب روپے ہو گیا ، مجموعی ایکویٹی میں7فیصد اضافہ ہوا، آئل، گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ169.9 ارب روپے منافع کما کر سرفہرست رہی، پاکستان پٹرولیم ، نیشنل بینک، واپڈا اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ لمیٹڈ بھی نمایاں منافع بخش اداروں میں شامل رہے۔25سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر832.8ارب روپے خسارہ رپورٹ کیا۔







