سعودی عرب کے 4 شہروں پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے

0
1

لاہور (پاکستان نیوز)سعودی عرب کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ایک وسیع پیمانے پر کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یہ حملے ابہا، جازان، نجران اور خمیس مشیط جیسے اہم شہروں کی سویلین اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ سعودی وزارت توانائی نے تصدیق کی ہے کہ حملوں کے بعد سعودی آرامکو کی کئی اہم اقتصادی تنصیبات اور بجلی کے مراکزی نظام میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر کچھ مقامات پر پیداواری کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔ آگ بجھانے والے دلاور عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کر دیا۔ دوسری جانب یمن کے حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے ان شدید حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی سعودی ائتلاف کی جانب سے یمن کے مختلف اضلاع پر کی گئی حالیہ فضائی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے جازان، نجران اور ابہا میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط میں واقع شاہ خالد ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت اور وزارت خارجہ نے اس واقعہ کو ملکی خودمختاری پر شدید حملہ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اور ملکی سلامتی کے لیے تمام تر ضروری عسکری اقدامات کیے جائیں گے۔ عالمی سطح پر بھی اس کارروائی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تجارتی مارکیٹوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here