نیویارک (پاکستان نیوز) مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے نازک بحری راستے پر پیدا ہونے والے شدید خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ برنٹ کروڈ کے نرخ بڑھ کر 99 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے ہیں۔ خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور اہم تنصیبات کی معطلی سے رسد میں بڑے پیمانے پر تعطل کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق خطے میں امریکی افواج اور ایرانی ناقلات کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے علاوہ حوثی شدت پسندوں کی جانب سے سعودی عرب کی اہم ریفائنریوں پر ڈرون حملوں نے عالمی منڈی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دنیا بھر کی کل تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے، جہاں نئی بحری پابندیوں اور تنازعات کے باعث گوداموں اور تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر رسد کا یہ تعطل مزید چند ہفتے برقرار رہا تو خام تیل قیمتیں 100 سے 120 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔ دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں مسلسل رضا کارانہ کٹوتی اور چین کی جانب سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے بھی قیمتوں کے اس اضافے کو تقویت دی ہے۔ ان حالات کے باعث توانائی کے عالمی شعبے میں عدم استحکام کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس کے بالواسطہ اثرات دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔











