چاند پر تاریک گڑھوں میں پانی کی تلاش

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)چین چاند کے قطب جنوبی کے انتہائی سرد اور تاریک حصوں میں منجمد پانی کی تلاش کے لیے اپنا سب سے پیچیدہ اور اہم مشن چینگ ای 7 روانہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ غیر انسان بردار مشن ایک لونگ مارچ 5 راکٹ کے ذریعے وینچانگ خلائی لانچ سائٹ سے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس خلائی سفر کے بنیادی حصوں میں ایک آربیٹر، ایک لینڈنگ پیڈ، ایک روور اور ایک خاص اڑنے والا ہوپنگ پروب شامل ہیں۔ اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کے جنوب میں واقع شیکلیٹن کریٹر کے قریب اتر کر ان گہرے گڑھوں کا جائزہ لینا ہے جہاں اربوں سالوں سے سورج کی روشنی نہیں پہنچی۔ ان علاقوں میں درجہ حرارت منفی 203 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔ ان تاریک اور انتہائی سرد گڑھوں کی ڈھلوانوں پر روایتی پہیوں والے روور کا چلنا ناممکن ہے، اس لیے چین ایک چھ ٹانگوں اور چھوٹے تھرسٹرز والا ہوپنگ روبوٹ استعمال کرے گا جو چھلانگیں لگا کر گڑھوں کی گہرائی میں جائے گا اور پانی کے مالیکیولز کا تجزیہ کر کے واپس روشنی میں آ کر اپنی بیٹری چارج کرے گا۔ چاند پر پانی کی موجودگی مستقبل میں انسانوں کی بستیوں کے لیے پینے کا پانی، آکسیجن اور راکٹ کا ایندھن بنانے میں انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ چین کا یہ قدم 2030 سے پہلے چاند پر انسان بھیجنے اور 2035 تک روس کے ساتھ مل کر ایک مستقل تحقیقی اسٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کا بنیادی حصہ ہے۔ اس اہم ترین تلاش کی دوڑ میں امریکہ اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں، تاہم چین کا یہ نیا مشن خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نمایاں پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here