امریکہ کا کینیڈا پر نیا ٹیرف عائد

0
9

نیویارک (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر نئی تجارتی پابندیاں اور بھاری ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل کے اداریے میں شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بغیر حکمت عملی کی غلطی قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وسط مدتی انتخابات سے محض 10 ہفتے قبل اس اقدام نے تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ نے 1930 کے ٹریف ایکٹ کی دفعہ 338 کا سہارا لیتے ہوئے کینیڈا کی مصنوعات پر 50 فیصد تک شرح سے سرحدی ٹیکس عائد کرنے کا حکم دیا ہے، جو امریکی تاریخ میں کسی صدر کی جانب سے اس قانون کا پہلا استعمال ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب 20 ارب ڈالر کی اشیائ پر سمجھوتے کے لیے دی گئی جمعہ کی رات کی مہلت ختم ہو گئی اور آخری لمحات میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس کے جواب میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے 8 ستمبر سے اتنی ہی مالیت کی امریکی اشیائ پر جوابی اقدام کا اعلان کیا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ان پالیسیوں سے تعمیراتی سامان، خام مال اور عام استعمال کی اشیائ مہنگی ہوں گی جس سے امریکی عوام میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والی حکمران جماعت کو اس بے مقصد تجارتی تنازع کی وجہ سے شدید سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ امریکی ووٹر اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ صدر کی تجارتی پالیسی کسی باضابطہ حکمت عملی سے محروم ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here