ایران نے اقتصادی پابندیوں کو اعلانِ جنگ قرار دیدیا

0
7
FILE - President of Iran Masoud Pezeshkian takes questions from the media during a news conference in New York on Sept. 26, 2025. (AP Photo/Angelina Katsanis, File)

(پاکستان نیوز)ایران کے اعلیٰ ترین سلامتی ادارے کے نئے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ تہران اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکہ کے نئے اقتصادی اقدامات کی حمایت کرنے والے کسی بھی ملک کے عمل کو باقاعدہ اعلانِ جنگ تصور کرے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کو تہران کو درپیش جاری بحران سے نکالنے کا بہترین راستہ قرار دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ کی جانب سے ایران پر مزید غیر معمولی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے بری فوج کے سربراہ تہران کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ دوسری جانب خلیج فارس کی آبنائے ہرمز میں حملوں کی شدت میں تو کمی آئی ہے لیکن بحری جہازوں کی آمد و رفت پر نئی پابندیوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے جس کے بعد مستقبل میں متعدد جہازوں کو خطے سے گزرنے پر دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں ایرانی عدلیہ نے سال کے آغاز میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو سزائے موت دے دی ہے۔ اس شخص پر غیر ملکی دشمن عناصر کے ساتھ تعاون اور ہتھیار استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اسی دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں تشدد کا سلسلہ تاحال تھم نہیں سکا ہے۔ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی شہری پر تشدد کے واقعے میں اسرائیلی آباد کار کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک چودہ سالہ فلسطینی لڑکا جاں بحق ہو گیا۔ غزہ کی صورتِ حال بھی انتہائی تشویش ناک ہے جہاں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک چار سالہ بچہ دم توڑ گیا اور کئی دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عسکریت پسند گروپ کے ایک اہم قائد کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی جو اس کارروائی میں مارا گیا۔ پناہ گزینوں کی بستیوں اور مختلف علاقوں میں بڑھتے ہوئے حملوں اور غباروں کے ذریعے آگ لگانے کے مبینہ داؤ پیچ کے جواب میں فوج کو مزید کارروائیوں کا حکم دیا گیا ہے جس پر تند و تیز ردِعمل دیتے ہوئے مقامی دھڑوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان بے بنیاد بہانوں کے ذریعے عام شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here