نیویارک (پاکستان نیوز)کیلیفورنیا کے چودھویں کانگریسی ڈسٹرکٹ میں ہونیوالے خصوصی ضمنی انتخاب میں ریاست کی سینیٹر عائشہ وہاب نے شاندار کامیابی حاصل کر کے امریکی کانگریس کی پہلی افغان امریکی رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یہ نشست سابق ڈیموکریٹک نمائندے ایرک سویل ویل کے رواں سال اپریل میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ عائشہ وہاب نے اپنی ہی پارٹی کی حریف ملیسا ہرنینڈز کو 53 فیصد ووٹ حاصل کر کے شکست دی، جبکہ ان کی مخالف کو 47 فیصد ووٹ ملے۔ اس انتخابی معرکے پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی تھیں کیونکہ امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی نے عائشہ وہاب کی ترقی پسند پالیسیوں خصوصاً غزہ کے معاملے پر ان کے مؤقف کی مخالفت میں ملینوں ڈالرز کا سامان حرب اور تشہیری فنڈز استعمال کیے۔ غیر ملکی فنڈنگ کے اس شدید دباؤ کے باوجود ووٹرز نے ترقی پسند خیالات کی حامل عائشہ وہاب پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وہ جنوری 2027 تک اس نشست پر سویل ویل کی بقایا مدت پوری کریں گی۔ اس فتح کے ساتھ ہی انہیں نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں بطور موجودہ رکن کانگریس حصہ لینے کا برتری کا موقع بھی مل گیا ہے، جہاں وہ ایک بار پھر دو سال کی مکمل مدت کے لیے ملیسا ہرنینڈز کا سامنا کریں گی۔ عائشہ وہاب نے اپنی فتح کے بعد جاری بیان میں کہا کہ یہ کامیابی ان کے حلقے کے ان ووٹرز کی ہے جنہوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا ڈسٹرکٹ پیسوں کے زور پر نہیں خریدا جا سکتا۔











