واشنگٹن (پاکستان نیوز)کیپیٹل ہل کی سیڑھیوں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے اور برطرفی کا مطالبہ کرنے والے امریکی ایئر فورس کے افسر میجر جیسن واٹسن کو ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دینے کے چند ہی دنوں بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق مذکورہ افسر کو جاری تادیبی کارروائی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے شبہے میں عدالتی کارروائی سے قبل کی حراست میں بھیجا گیا ہے۔ فی الوقت وہ میری لینڈ کی ایک کاؤنٹی جیل میں ملٹری ہولڈ کے تحت مقید ہیں۔ میجر جیسن واٹسن کے قانون دان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے مؤکل کو دورانِ ڈیوٹی اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے اپنی قیادت کو مطلع کیا کہ وہ مزید فوجی وردی زیب تن نہیں کریں گے۔ اس انکار کے بعد فوجی قیادت نے انہیں دوبارہ وردی پہننے کا حکم دیا جس کی تعمیل نہ کرنے پر فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پر ملٹری جسٹس کوڈ کی ان دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیے جانے کا امکان ہے جو فوجی افسران کی جانب سے اعلیٰ حکام کی توہین اور احکامات کی عدولی سے متعلق ہیں۔ اس سے قبل جولائی کے پہلے ہفتے میں بھی مذکورہ افسر کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ امریکی کانگریس کے باہر ملٹری یونیفارم پہن کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کے مواخذے کی حمایت میں مظاہرہ کر رہے تھے۔ امریکی فوجی قوانین کے تحت فعال سروس میں موجود اہلکاروں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور یونیفارم میں تماشائی یا مظاہرین کے طور پر شامل ہونے سے مکمل طور پر روکا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیسن واٹسن نے کہا تھا کہ وہ ملک کے آئین کی تحفظ کی خاطر نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں اور اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔ دوسری جانب ایئر فورس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ افسر کے ذاتی بیانات سے امریکی دفاعی ادارے یا ایئر فورس کی پالیسیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔









