نیویارک (پاکستان نیوز )ایران نے امریکہ کی جانب سے معاشی پابندیاں ہٹائے جانے کی شرط پر اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتے کا اعلان کر دیا ہے ، جوہری معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان ‘بالواسطہ’ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں اختتام پذیر ہو گیا جس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتے کے لیے تیار ہے اگر واشنگٹن معاشی پابندیاں ہٹانے کے لیے آمادہ ہے تو ، بی بی سی کو انٹرویو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور پہلے دور کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا، امریکہ کے ساتھ اہم اصولوں پر مفاہمت طے پا گئی ہے، اس بار ‘بات چیت کافی سنجیدہ تھی جبکہ زیادہ تعمیری ماحول تھا جس کے دوران مختلف خیالات پیش کیے گئے ۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران رہنما اصولوں پر کلی اتفاق ہوا ہے، اور ان اصولوں کی بنیاد پر ہم ایک دستاویز کی تیاری شروع کریں گے ،یہ کام فوری طور پر مکمل نہیں ہوگا، لیکن ایران اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ البتہ اگلے دور کے لیے کوئی مخصوص وقت طے نہیں ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے متن پر کام کریں، پھر ایسے متن کا تبادلہ کریں اور پھر تیسرے دور کے لیے تاریخ مقرر کریں۔عباس عراقچی نے کہا کہ مجموعی طور پر مذاکرات کے اس دور میں پچھلے سیشن کے مقابلے میں اچھی پیش رفت ہوئی، اور اب ہمارے پاس آگے کا راستہ واضح ہے، جو کہ مثبت ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز پر ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، امریکہ کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ ‘بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن سب سے خطرناک ہتھیار وہ ہے جو اسے سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو سکتا ہے، خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایجنٹوں کے علاوہ تمام متاثرین اور ہلاک ہونے والے ایران کے فرزند ہیں۔ایران پر دبائو بڑھانے کے لیے امریکہ کا بحری بیڑا ابراہم لنکن، تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 90 طیاروں بشمول ایفـ35 فائٹرز جیٹس اور 5,680 اہلکاروں کیساتھ عمان کے ساحل کے قریب ایران سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ امریکہ نے دنیا کے سب سے بڑے جنگی جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا ہے، جو آئندہ تین ہفتوں میں اس خطے میں پہنچ سکتا ہے،ابراہم لنکن کی موجودگی اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔یاد رہے کہ ایران کی فوج مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مڈنائٹ ہیمر کے دوران امریکہ نے خطے میں دو ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس، بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں پانچ ڈسٹرائرز اور خلیج میں تین جنگی جہاز تعینات کیے تھے۔اس نے امریکہ سے یورپ تک لڑاکا طیاروں اور ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کے سکواڈرن بھی منتقل کیے تھے، تاہم بیـ2 سٹیلتھ بمبار جنھوں نے فردو، اصفہان اور نطنز کی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، دراصل امریکہ کی ریاست میزوری میں موجود اڈوں سے روانہ ہوئے تھے۔





