واشنگٹن (پاکستان نیوز) ایف بی آئی کے نیویارک فیلڈ آفس میں موجود بدنامِ زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلیں 2023ء میں ایک غیر ملکی ہیکر کی جانب سے ہیک کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے،برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع اور امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ہیکر نے ایف بی آئی کے نیویارک فیلڈ آفس کے سرور تک رسائی حاصل کر لی تھی، اس واقعے کی تفصیلات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں،ایف بی آئی نے ایک بیان میں اس واقعے کو سائبر واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے نے فوری طور پر ہیکر کی رسائی روک کر نیٹ ورک کو محفوظ بنا دیا، ایف بی آئی کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں،یہ ہیکنگ 12 فروری 2023ء کو اس وقت ہوئی جب نیویارک فیلڈ آفس کے چائلڈ ایکسپلوئٹیشن فرانزک لیب کے سرور میں سکیورٹی کمزوری پیدا ہو گئی،دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ ایرون اسپائی ویک ڈیجیٹل شواہد کو سنبھالنے کے پیچیدہ طریقہ کار سے نمٹنے کی کوشش کر رہے تھے جس دوران سرور غیر ارادی طور پر غیر محفوظ رہ گیا،اگلے دن جب ایجنٹ نے اپنا کمپیوٹر آن کیا تو انہیں ایک ٹیکسٹ فائل ملی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ان کا نیٹ ورک ہیک ہو چکا ہے۔










