رنگ و نسل کی بنیاد پر یونیورسٹیوں میں داخلوں کا ڈیٹا ؛ ٹرمپ کیخلاف فیصلہ

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز)عدالتی فیصلے کے مطابقصدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے جامعات سے نسل کی بنیاد پر داخلوں کا ڈیٹا طلب کرنے کی کوششوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں وفاقی جج ایف ڈینس سیلر نے ان سترہ ریاستوں کے حق میں فیصلہ سنایا جنہوں نے حکومت کی نئی رپورٹنگ شرائط کو چیلنج کیا تھا۔ ان ریاستوں کا موقف ہے کہ ڈیٹا کی فراہمی کے یہ نئے مطالبات جامعات کے لیے انتہائی مہنگے اور بوجھ کا باعث ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے ضابطے کے ذریعے جامعات سے کئی سالوں کا ایسا ڈیٹا حاصل کرنا چاہتی ہے جس میں نسل اور دیگر پہلوؤں کی بنیاد پر داخلوں کی تفصیلات شامل ہوں۔ جج نے اس سروے کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ پچیس مارچ تک بڑھا دی ہے تاکہ وہ ریاستوں کے کیس پر مزید غور کر سکیں۔ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ شہری حقوق کے قوانین کے نفاذ کے بہانے کالجوں اور جامعات سے غیر معمولی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ وہی انتظامیہ ہے جس نے محکمہ تعلیم کے دفتر برائے شہری حقوق کو کمزور کیا جس سے ہزاروں شکایات التوا کا شکار ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ ایک قابل بھروسہ آلے کو سیاسی ہتھیار بنانے کے مترادف ہے اور کیلیفورنیا قانون کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے عدالت کا رخ کر رہا ہے۔ دوسری جانب محکمہ تعلیم کی پریس سیکرٹری ایلن کیسٹ نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان اعلیٰ تعلیم پر سالانہ سو بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی رقم کہاں صرف ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کوشش کا مقصد شفافیت لانا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ جامعات داخلوں میں نسل کو کیسے اہمیت دیتی ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here