دبئی(پاکستان نیوز)متحدہ عرب امارات میں حکام نے سیاحوں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد سمیت 21 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں یا ان سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر بنائی ہیں یا انہیں انٹرنیٹ پر شیئر کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اماراتی سائبر کرائم قوانین کے تحت نہ صرف اصل مواد پوسٹ کرنیوالے بلکہ اسے آگے بھیجنے یا اس پر تبصرہ کرنیوالے افراد کو بھی قانون کی گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ ان گرفتاریوں کی زد میں ایک ساٹھ سالہ برطانوی سیاح بھی آیا ہے جس نے شہر کی فضا میں ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنائی تھی۔ برطانوی حکومت نے اس حوالے سے اماراتی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ مقامی حکام کا موقف ہے کہ یہ قوانین شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں کیونکہ میزائلوں کے گرنے والے ٹکڑے فلم بنانے والوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت قصوروار پائے جانے والے افراد کو دو سال تک قید اور پانچ ہزار پانچ سو سے پچپن ہزار امریکی ڈالر تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایک ہزار آٹھ سو ڈرون اور میزائل فائر کیے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے چھ افراد ہلاک اور ایک سو اکتالیس زخمی ہوئے ہیں۔












