نیویارک (پاکستان نیوز)ICEنے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی ڈھائی ماہ کے دوران ملک کے مختلف حراستی مراکز میں گیارہ تارکین وطن زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد اکتیس رہی تھی جو گزشتہ دو دہائیوں میں اموات کی سب سے بلند سطح ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنوری سے مارچ کے اوائل تک ہونے والی ان اموات میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ ہیٹی سے تعلق رکھنے والے ایمانویل کلیفورڈ ڈامس اریزونا کے ہسپتال میں انتقال کر گئے جن کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت دانت کے درد کے انفیکشن کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی، تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اسی طرح ایرانی شہری پجمان کارشناس نجف آبادی جو سنگین طبی مسائل کا شکار تھے، مسیسیپی کے ایک ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے دم توڑ گئے۔ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے البرٹو گٹیریز بھی سینے میں درد اور سانس کی تکلیف کے باعث کیلیفورڈ کے طبی مرکز میں چل بسے، جن کے بارے میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں دوران حراست طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ دیگر مرنے والوں میں گوئٹے مالا کے جائرو گارسیا شامل ہیں جو طویل عرصے سے بیمار تھے اور اچانک گر کر ہلاک ہو گئے۔ انڈیانا کے ایک مرکز میں کمبوڈیا کے لوتھ سم اپنی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے۔ ٹیکساس کے کیمپ ایسٹ مونٹانا میں نکاراگوا کے وکٹر مینوئل ڈیاز اور جارجیا کے ایک مرکز میں میکسیکو کے ہیبر سانچیز کی اموات ہوئیں جنہیں مبینہ طور پر خودکشی قرار دیا جا رہا ہے۔ پنسلوانیا میں کمبوڈین نڑاد پیراڈی لا منشیات چھوڑنے کے عمل کے دوران اعضائ کی ناکامی کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ ہونڈوراس کے دو شہری لوئس بیلٹران اور لوئس گستاو بھی دل کے عارضے کے سبب ٹیکساس اور کیلیفورنیا میں انتقال کر گئے۔ کیوبا سے تعلق رکھنے والے جیرالڈو لوناس کی موت کے حوالے سے تنازع کھڑا ہو گیا ہے جہاں مقامی رپورٹس میں سیکیورٹی اہلکاروں کے تشدد کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ حکام اسے خودکشی کی کوشش کے دوران پیش آنے والا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حراستی مراکز میں طبی سہولیات کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔












