نیویارک (پاکستان نیوز)نیو یارک کی ریاستی سیاست میں نئے گورنر کے انتخاب کیلئے جاری مہم کے دوران نساؤ کاؤنٹی کے انتظامی سربراہ بروس بلیک مین کے حالیہ بیانات اور پالیسیوں نے ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نیو یارک کے اعلیٰ ترین عہدے کیلئے ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو فروغ دے رہی ہے خاص طور پر نساؤ کاؤنٹی میں نقاب پر پابندی کے قانون کی منظوری اور احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت اقدامات کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے مخصوص مذہبی اور نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ بلیک مین کے اقدامات کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے جس کے لیے وہ اقلیتی برادریوں کے خلاف سخت گیر موقف اپنا رہے ہیں اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ڈیجیٹل پروگرام میں ان کی جانب سے دیئے گئے بیانات کو مقامی قانون سازوں نے سفید فام بالادستی کے نظریات کی عکاسی قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے دوسری جانب بلیک مین نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پالیسیاں صرف عوامی تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ہیں تاہم نیو یارک کی مسلم تنظیموں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کو گورنر کے عہدے تک رسائی ملی تو ریاست میں بسنے والی اقلیتوں کا تحفظ اور مذہبی آزادی داؤ پر لگ جائے گی مہم کے دوران بلیک مین کے جارحانہ رویے اور دیگر مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ریاست بھر میں ان کے خلاف احتجاجی لہر اٹھ رہی ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی یہ حکمت عملی اعتدال پسند ووٹروں کو ان سے دور کر سکتی ہے کیونکہ نیو یارک جیسے کثیر الثقافتی علاقے میں نفرت پر مبنی سیاست کی گنجائش بہت کم ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں نیو یارک کے عوام اس مخصوص نظریاتی سوچ کو قبول کرتے ہیں یا اسے مسترد کر کے رواداری اور بھائی چارے کا ثبوت دیتے ہیں۔












