امریکی مسلمانوں کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ کی جانب سے ایران کیخلاف شروع کی گئی معاندانہ مہم اب ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں واشنگٹن اپنی عالمی تنہائی کو چھپانے کے لیے اس تنازع کو دانستہ طور پر مذہبی جنگ یا صلیبی معرکے کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کی ایران دشمن پالیسیوں کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ امریکہ کے دیرینہ اتحادی ممالک نے بھی اس ممکنہ جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد وائٹ ہاؤس بین الاقوامی میدان میں مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے۔ اس سفارتی ناکامی اور عالمی تعاون کے فقدان کا غصہ اب امریکہ کے اندر بسنے والی مسلم کمیونٹی پر نکالا جا رہا ہے۔ حکومتی سرپرستی میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کیخلاف ایک منظم اور زہریلی مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد ایران کے ساتھ تنازع کو بنیاد بنا کر اسلامو فوبیا کو ہوا دینا اور امریکی عوام کی توجہ اصل سیاسی و سفارتی ناکامیوں سے ہٹانا ہے۔ اس نفرت انگیز مہم کے اثرات اب امریکی گلیوں اور عبادت گاہوں میں واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں جہاں نیویارک سمیت دیگر بڑے شہروں کی مساجد کو فون کالز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے بم سے اڑانے اور دیگر سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اب تک سینکڑوں کی تعداد میں ایسی شکایات درج کروائی جا چکی ہیں جن میں مسلمانوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے لیکن امریکی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے یا ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں مکمل طور پر قاصر نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی ریاست کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے جہاں ایک طرف تو مذہبی آزادی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور دوسری طرف سرکاری مشینری کی خاموش رضامندی سے مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی اداروں کی یہ پراسرار خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ خود ان شرپسند عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے تاکہ ملک میں قوم پرستی کے نام پر مذہبی منافرت کو برقرار رکھا جا سکے۔ داخلی سطح پر مسلمانوں کے خلاف اس معاندانہ ماحول نے امریکی معاشرے کے جمہوری چہرے پر بدنما داغ لگا دیا ہے جہاں آئی سی ای جیسے ادارے بے گناہ مسلمانوں اور تارکین وطن کو ہراساں کر رہے ہیں جبکہ مساجد کو ملنے والی دھمکیوں پر کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی جا رہی ہیں۔ ریپبلکن اراکین کی جانب سے ایوان کے اندر دی جانے والی تقاریر اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پیغامات نے انتہا پسندوں کو یہ لائسنس دے دیا ہے کہ وہ کھلے عام مسلمانوں کی شہریت اور ان کے حقِ زندگی کو چیلنج کریں۔ بین الاقوامی برادری میں تنہا ہونے کے بعد امریکہ کی یہ کوشش کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک پورے مذہب کو نشانہ بنائے نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے بلکہ یہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ امریکی ریاست اپنی جابرانہ پالیسیوں کو چھپانے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ایک ایسی آگ بھڑکا رہی ہے جس کی زد میں خود اس کا اپنا دستوری ڈھانچہ بھی آ سکتا ہے۔یاد رہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ملک کے اندرونی حالات کو بنیاد بنا کر اینڈی اوگلز اور رینڈی فائن جیسے قانون سازوں نے کھلے عام ایسے بیانات دئیے ہیں جن میں مسلم کمیونٹی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ان اراکین کا دعویٰ ہے کہ امریکی معاشرے میں کثرت پسندی کا تصور محض ایک فریب ہے اور اسلامی اقدار ملکی آئین سے متصادم ہیں۔ ان اشتعال انگیز بیانات پر ڈیموکریٹک قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پہلی آئینی ترمیم کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ایوان میں اقلیتی لیڈر حکیم جیفریز اور دیگر رہنماؤں نے ان بیانات کو نفرت انگیزی قرار دیتے ہوئے متعلقہ اراکین کے خلاف تادیبی کارروائی اور مذمتی قراردادیں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ پارلیمانی وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔ سیاسی محاذ پر جاری اس کشیدگی کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے کی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال 2026 کے آغاز سے اب تک حراستی مراکز میں بند افراد کی تعداد 73000 سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ خاص طور پر ان افراد کی گرفتاریوں میں ہزاروں گنا اضافہ ہوا ہے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے تارکین وطن کی بستیوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران ہونے والے جانی نقصانات اور خاندانوں کی جبری علیحدگی نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نیویارک، شکاگو اور لاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں ہزاروں شہری ان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور مقامی حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون بند کر کے ان علاقوں کو محفوظ پناہ گاہیں قرار دیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سیاسی سطح پر ہونے والی اس بیان بازی کے نتیجے میں معاشرے میں نفرت انگیز جرائم کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایک ہی سال کے دوران ہزاروں ایسی شکایات درج کی ہیں جن میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے یا ان پر تشدد کرنے کے واقعات شامل ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹیں بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مذہبی بنیادوں پر ہونیوالے جرائم اب دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی عدالتی نظام کے لیے بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور متعدد ریاستوں نے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی خاص گروہ کو نشانہ بنانا اور بلاجواز گرفتاریاں چوتھی آئینی ترمیم کی صریح خلاف ورزی ہیں جو شہریوں کو غیر قانونی تلاشی سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ عوامی سطح پر ہونے والے سروے بتاتے ہیں کہ امریکی معاشرہ اس وقت دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک بڑی اکثریت ان سخت گیر اقدامات کو انسانی حقوق کی پامالی سمجھتی ہے جبکہ ایک مخصوص سیاسی طبقہ اسے ملکی دفاع کے لیے ناگزیر قرار دے رہا ہے۔ اس تقسیم نے نہ صرف سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں بھی حاضری کم ہو گئی ہے کیونکہ لوگ گرفتاری کے ڈر سے بنیادی سہولیات حاصل کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ ماہرین کا تجزیہ ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے فوری طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل نہ کی اور نفرت انگیز بیانات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو یہ بحران مستقبل میں مزید سنگین سماجی انتشار کا سبب بن سکتا ہے جو امریکی جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here