ریاض(پاکستان نیوز)عالمی مالیاتی امور کے ماہرین اور حالیہ رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنی تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے فعال کر لیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔ سعودی عرب اپنے یمبو بندرگاہ کے ذریعے جو کہ بحیرہ احمر پر واقع ہے تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے ملک کے مشرقی صوبے سے آنے والی پائپ لائن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب اس وقت روزانہ 50 لاکھ بیرل سے زائد تیل ان متبادل راستوں سے برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات بھی فجیرہ کے راستے آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تجارت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ان متبادل راستوں کے استعمال سے اخراجات میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس سے خلیجی ممالک کی عالمی منڈی تک رسائی محفوظ ہو گئی ہے۔ دوسری جانب قطر کو اپنی مائع قدرتی گیس کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا انحصار اب بھی اسی روایتی راستے پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں تاہم کوئی بھی فریق فی الحال معاملات کو مکمل طور پر ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتا۔ ایران بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ امریکہ کے پاس عسکری اور معاشی سطح پر کئی آپشنز موجود ہیں لیکن وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے ۔ یہ تمام تر صورتحال جنگ اور مذاکرات کی اس منطق کے گرد گھوم رہی ہے جس میں ہر فریق اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے۔











