ایران کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا: امریکہ کے لکھاریوں کا احتجاج

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)ایران کے خلاف حالیہ جنگی صورتحال میں سوشل میڈیا اور بین الاقوامی صحافتی اداروں کی جانب سے پھیلائے جانیوالے مبینہ جھوٹے پروپیگنڈے اور من گھڑت خبروں کے خلاف دنیا بھر کے لکھاریوں اور قلم کاروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات کا جنازہ قرار دے دیا ہے۔ امریکہ سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز دانشوروں، کالم نگاروں اور صحافیوں کی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جنگی جنون کو ہوا دینے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جعلی ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے جس کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور خطے میں تباہی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بعض میڈیا ہاؤسز غیر تصدیق شدہ اطلاعات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ لکھاریوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سچائی کو مسخ کر کے پیش کرنے سے نہ صرف صحافت کے مقدس پیشے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے قلم کاروں نے عالمی برادری اور میڈیا ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو جنگی مقاصد کے لیے جھوٹی خبریں تیار کرنے اور انہیں پھیلانے میں ملوث ہیں۔ پاکستان اور ایران کے سرکاری حکام نے بھی اس موقع پر میڈیا تعاون بڑھانے اور مشترکہ طور پر غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ احتجاجی لہر میں شامل دانشوروں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے پروپیگنڈے کے اس جال کو توڑیں گے اور عوام تک حقائق پہنچانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قلم کی طاقت کو کسی بھی صورت میں مخصوص سیاسی ایجنڈوں یا جنگی سازشوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل نیویارک ٹائمز کی جانب سے غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر جانبداری دکھانے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کیخلاف دنیا بھر کے تین سو سے زائد مایہ ناز لکھاریوں، دانشوروں اور صحافیوں نے اخبار کے لیے لکھنے سے مکمل انکار کر دیا تھا۔ احتجاج کرنیوالے ان قلمکاروں کا موقف تھا کہ یہ اخبار دہائیوں سے اسرائیلی حکومت اور فوج کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جبکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here