ٹرمپ جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ نہیں پا رہے، سینیٹر الزبتھ وارن

0
3

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان اور نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ اسلام آباد کھٹائی میں پڑنے کے بعد واشنگٹن کی سفارتی راہداریوں میں تناؤ اور بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔سینیٹر الزبتھ وارن نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نائب صدر کا طیارہ کئی گھنٹوں تک رن وے پر کھڑا رہا لیکن تہران کی جانب سے مذاکرات کی میز پر آنے کی حتمی یقین دہانی نہ ملنے کے باعث پرواز منسوخ کر دی گئی۔صدر ٹرمپ نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا مقصد ایرانی قیادت کو ایک اور موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے متفقہ تجاویز پیش کر سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خود کو ایک ایسی مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے باعزت واپسی کا راستہ تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی صدر نے جارحانہ فوجی اقدام کی دھمکی دینے کے بعد قدم پیچھے ہٹائے ہیں، جس سے ان کی سیاسی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت پیچیدہ ہوئی جب خصوصی مشیر سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر سمیت امریکی وفد کے ارکان میامی سے براہ راست پاکستان روانہ ہونے کے بجائے واپس واشنگٹن پہنچ گئے۔ ایران کی جانب سے خاموشی اور مذاکرات میں شرکت کا سرکاری وعدہ نہ ہونے کے باعث امریکی انتظامیہ اس تذبذب کا شکار رہی کہ نائب صدر کو روانہ کیا جائے یا نہیں۔ اس سفارتی تعطل نے دو ماہ سے جاری مسلح تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here