نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ میں 15 اپریل کو ٹیکس کی ادائیگی کا دن ایک ایسے موقع کے طور پر ابھرا ہے جو ملک کے معاشی نظام میں موجود گہری خلیج اور غیر منصفانہ تقسیم کو بے نقاب کرتا ہے۔ معیشت کے ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے اس دن کی مناسبت سے اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ امریکی ٹیکس کا ڈھانچہ اب غریب اور متوسط طبقے کے بجائے صرف انتہائی دولت مند افراد کے تحفظ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی قانونی تبدیلیوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں دنیا کے امیر ترین افراد اپنی آمدنی کا ایک بہت معمولی حصہ ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں جبکہ محنت کش طبقہ اپنی خون پسینے کی کمائی سے ریاست کے اخراجات کا بڑا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں امیر ترین امریکی اپنی آمدنی کا تقریباً 50 فیصد ٹیکس دیتے تھے جو اب کم ہو کر صرف 24 فیصد رہ گیا ہے جس کی بڑی وجہ ٹیکس قوانین میں موجود چور راستے اور بڑے سرمایہ کاروں کو دی جانے والی خصوصی مراعات ہیں۔ ٹیکس کے اس غیر منصفانہ نظام نے نہ صرف معاشی عدم مساوات کو فروغ دیا ہے بلکہ جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ بے پناہ دولت جمع کر لیتا ہے اور اپنی سماجی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے عوامی شعبے زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نیویارک جیسے بڑے شہروں میں جہاں دنیا کے امیر ترین افراد کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے وہاں زندگی گزارنے کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس نے عام شہریوں کے لیے اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ یہ نظام ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دے رہا ہے جو ریاست سے تمام فوائد حاصل کرتی ہے لیکن اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا واجبی حصہ ڈالنے سے گریزاں ہے۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے اب عالمی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ارب پتی افراد کی دولت پر براہ راست ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ معاشی توازن کو بحال کیا جا سکے اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جائے جہاں ترقی کے ثمرات تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر میسر ہوں۔










