نیویارک (پاکستان نیوز)سینیٹر کرسٹن گلی برانڈ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کیلئے وار پاورز ریزولیوشن کی منظوری پر زور دیا ہے۔ سینیٹر گلی برانڈ کا کہنا ہے کہ نیویارک کے شہری سستی اشیا اور زندگی کی بنیادی سہولیات چاہتے ہیں نہ کہ کبھی ختم نہ ہونیوالی جنگیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری یہ جنگ نہ صرف امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ اس سے قومی سلامتی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے اور عام خاندانوں کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے صدر کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کانگریس کی واضح اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی قوت کا استعمال بند کریں اور امریکی افواج کو وہاں سے نکالیں۔ سینیٹر گلی برانڈ طویل عرصے سے غیر قانونی جنگوں کے خاتمے اور فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق کانگریس کے اختیارات کی بحالی کی وکالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2019 میں بھی ایک اصلاحاتی قرارداد پیش کی تھی جس کے تحت صدر کو فوجی کارروائی کے مقاصد اور اس کی ضرورت سے متعلق ٹھوس شواہد فراہم کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ فروری سے جاری ایران کے خلاف اس جنگ کو انہوں نے ایک غلط انتخاب قرار دیا ہے جس نے امریکی عوام کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے اور صدر کے فیصلوں پر نظر رکھنے کے لیے ہر ممکنہ قانونی راستہ اختیار کریں گی۔










