ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور چند دنوں میں ایران کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی، تاہم ایرانی قیادت فی الحال کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نظر نہیں آتی۔ ایران کا اپنے موقف پر اس حد تک قائم رہنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اور یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جارحیت کی تو ایسی صورت میں ایران کے پاس اپنے ان تمام دفاعی ہتھیاروں کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا جو اس نے اب تک محفوظ کر رکھے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں جہاں امریکہ کی ناکہ بندی کے جواب میں ایران کی جانب سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ان حالات میں اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ ایران کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے لچک کا مظاہرہ کرے کیونکہ سفارت کاری میں ہمیشہ لو اور دو کی پالیسی ہی کارگر ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان اس عالمی بحران کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ عالمی معیشت کو استحکام مل سکے۔ دنیا بھر میں پاکستان کے اس مثبت کردار کو سراہا جا رہا ہے اور اس صورتحال نے ملک کی موجودہ حکومت کو بھی سیاسی طور پر مستحکم کیا ہے جس سے وزیراعظم کی قیادت ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھری ہے۔
عالمی منظرنامے سے ہٹ کر اگر پاکستان میں کرکٹ کی دنیا کا جائزہ لیا جائے تو یہاں ایک مختلف صورتحال درپیش ہے۔ پڑوسی ملک میں کرکٹ لیگ کے دوران اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں خالی اسٹینڈز تشویشناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ اگرچہ پیٹرول کی قیمتیں وہاں بھی زیادہ ہیں مگر پاکستان میں تماشائیوں کی آمد پر غیر ضروری پابندیاں کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان پابندیوں کو فوری ختم کرے تاکہ کرکٹ کے شائقین میدانوں کا رخ کر سکیں کیونکہ تماشائیوں کی عدم موجودگی کھلاڑیوں کے حوصلے پست کرنے کا باعث بنتی ہے۔
میدانِ عمل میں بابر اعظم نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی سپر اسٹار ہیں۔ ہر کھلاڑی کے کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور بابر اعظم نے پی ایس ایل میں بہترین باؤلرز کے خلاف سینچری بنا کر ان ناقدین کے منہ بند کر دئیے ہیں جو ان کی پرفارمنس پر سوال اٹھا رہے تھے۔ اسی طرح صائم ایوب بھی اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں لیکن وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور جلد ہی اپنی کھوئی ہوئی فارم بحال کر لیں گے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کو بہترین نیا ٹیلنٹ مل رہا ہے جو مستقبل میں بابر اعظم کی قیادت میں ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا۔ اس حوالے سے بابر اعظم کو تمام طرز کی کرکٹ کا کپتان مقرر کرنا ایک بہتر فیصلہ ہوگا جبکہ پی سی بی کی جانب سے سرفراز احمد کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اہم ذمہ داری سونپنا بھی قابلِ ستائش ہے کیونکہ ان کا لڑاکا جذبہ اور تجربہ ٹیم کو دوبارہ عروج پر لے جا سکتا ہے۔ سرفراز احمد نے ہمیشہ صبر اور شرافت کا مظاہرہ کیا ہے اور اب وقت ہے کہ ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ دورہ بنگلہ دیش کی کامیابی کے بعد اب یہی دعا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع بھی پرامن طور پر حل ہو جائے اور پاکستان کا مصالحانہ کردار عالمی سطح پر مزید معتبر ٹھہرے تاکہ قوم اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ مل کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔













