مایوس کن کونی آئی لینڈ!!!

0
10
رعنا کوثر
رعنا کوثر

مایوس کن کونی آئی لینڈ!!!

نیویارک کے معروف علاقے بروکلین میں ایک ایسی جگہ واقع ہے جسے دنیا کونی آئی لینڈ کے نام سے جانتی ہے۔ اس مقام کے ایک جانب سمندر کا ساحل، بچوں کے کھیل کود کے میدان اور تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، تو وہیں دوسری جانب فوسٹر ایونیو کی سمت ایک ایسی دنیا آباد ہے جسے ”لٹل پاکستان ”کہا جاتا ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی ہر طرف پاکستانی ہوٹل، اشیائے خوردونوش کے مراکز ، گروسری اسٹورز، جہاں ہر قسم کے مصالحہ جات، دیسی چاولوں اور پاکستان کے اصل ذائقے ملتے ہیں۔ امریکہ کی دیگر ریاستوں میں رہنے والے لوگ بھی اس علاقے کی شہرت سن کر یہاں کھنچے چلے آتے ہیں، لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ یہ لٹل پاکستان آج خود اپنے ہی لوگوں کی بے اعتنائی کا شکار ہو رہا ہے۔یہاں ہر سال میلے سجتے ہیں اور چاند رات کی رونقیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہاں پاکستانی تاجر برادری سرگرمِ عمل ہے، سیاسی و سماجی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے، ڈاکٹروں کے کلینک اور سفری ایجنسیاں بھی موجود ہیں۔ غرض اس شاہراہ نے بے شمار پاکستانیوں کے لیے رزق کے دروازے کھولے جن سے حاصل ہونے والی آمدن سے لوگوں نے اپنے ذاتی گھر تو سجا لیے، مگر اس سٹریٹ کی حالت زار پر کسی نے توجہ نہ دی۔ فٹ پاتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور گندگی کے باعث فضا میں ناگواری کا احساس ہوتا ہے۔ رات کے وقت سڑکوں پر روشنی کا وہ انتظام نظر نہیں آتا جو ایک معیاری بازار کا خاصہ ہوتا ہے، جس کے باعث یہاں ایک عجیب سی اداسی چھائی رہتی ہے۔ٹوٹے ہوئے راستے اور میلی دکانیں یہاں آنے والوں کو مایوس کرتی ہیں۔ بیشتر ریستورانوں کی حالت بھی ابتر ہے جہاں صفائی کے معیار کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔ گاہکوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ امریکہ جیسے ملک میں بیٹھے ہیں، کیونکہ غیر معیاری برتنوں میں کھانا پیش کرنا اور صفائی سے عاری تندوری روٹیاں فراہم کرنا یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ چاٹ جیسی روایتی اشیاء کے معیار میں بھی وہ نفاست مفقود ہے جو پاکستان کے کسی دور افتادہ گاؤں میں بھی برقرار رکھی جاتی ہے۔ یہاں موجود تاجر برادری اور بااثر شخصیات سے یہ التماس ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنے گھروں کی تزئین و آرائش کی، اسی طرح اس شاہراہ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں۔مقامی حکومت سے رابطہ کر کے فٹ پاتھوں کی تعمیرِ نو اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دکانوں کے بیرونی منظر نامے کو جدید اور روشن بنا کر یہاں تازگی کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض ایک رائے نہیں بلکہ ان بے شمار لوگوں کی پکار ہے جو بڑے شوق سے یہاں آتے ہیں مگر بدحالی دیکھ کر مایوسی کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ رویہ نہ صرف اس علاقے بلکہ ملک کے وقار کو بھی متاثر کرے گا۔ نوجوان نسل اور صاحبِ ثروت طبقے کو چاہیے کہ وہ اس بازار کو دوبارہ اس کا اصل مقام دلانے کے لیے کوششیں کریں، تاکہ لٹل پاکستان حقیقی معنوں میں اپنی پہچان برقرار رکھ سکے۔ اگر ہم اسے بہتر نہیں بنا سکتے تو پھر اسے پاکستان سے منسوب کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ ہمارا اصل وطن اپنے بازاروں، ہوٹلوں اور دکانوں کی خوبصورتی کے لحاظ سے اس سے کہیں بہتر اور دلکش ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here