واشنگٹن (پاکستان نیوز)وائٹ ہاؤس کے معاشی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے حالیہ معاہدوں کے نتیجے میں اگلے دس سالوں کے دوران امریکی معیشت کو 529 ارب ڈالر کی خطیر بچت ہو سکتی ہے۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد امریکہ میں نسخہ جاتی ادویات کی قیمتوں کو ان سطحوں تک لانا ہے جو دیگر ترقی یافتہ ممالک میں وصول کی جاتی ہیں۔ خبر رساں ادارے کی جانب سے حاصل کردہ تجزئیے کے مطابق یہ پالیسی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومتی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے نہ صرف عام شہریوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو بھی طبی امداد کے پروگراموں میں تقریباً 64.3 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ رپورٹ کے ایک ماڈل میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر مزید نئی ادویات اس فریم ورک کے تحت شامل کی گئیں تو یہ بچت 733 ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب حزب مخالف کے قانون ساز ان دعوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے ان معاہدوں کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈیموکریٹک ارکان کا موقف ہے کہ ان خفیہ معاہدوں کی حقیقت جاننا ضروری ہے تاکہ بچت کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کی جا سکے۔ سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے اراکین نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ان شرائط کو منظر عام پر لائے جن کے تحت یہ کمپنیاں قیمتیں کم کرنے پر راضی ہوئی ہیں۔ وزیر صحت رابن ایف کینیڈی جونیئر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تجارتی رازوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ضروری معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس وقت امریکی عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں کی وجہ سے شدید تشویش کا شکار ہیں اور صدر ٹرمپ اس معاشی ریلیف کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے باوجود ادویہ ساز کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات ادویات کی اصل قیمتوں میں کمی لائیں گے اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کے فرق کو ختم کر کے ایک منصفانہ نظام وضع کریں گے۔












