عالمی سطح پر ڈالر کی گرتی ہوئی قدر اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی

0
18

تجزیہ: مجیب ایس لودھی
حالیہ معاشی تبدیلیوں نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے اور اس کا براہ راست اثر اب امریکی شہریوں کے باورچی خانے سے لے کر ان کے سفری منصوبوں تک پر نظر آ رہا ہے۔ امریکی سکہ یعنی ڈالر کی قدر میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جسے ماہرینِ معیشت ایک خاموش ٹیکس سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ جب کسی ملک کی کرنسی بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کھونے لگتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے لیکن حقیقت میں یہ عام آدمی کی قوتِ خرید پر ایک کاری ضرب ہوتی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں ڈالر کی قدر میں لگ بھگ دس فیصد تک کی گراوٹ دیکھی گئی ہے جس نے جہاں بین الاقوامی تجارتی توازن کو متاثر کیا ہے وہیں مقامی سطح پر اشیائ ِ خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
تاریخی طور پر امریکی صدور ہمیشہ مضبوط کرنسی کی حمایت کرتے رہے ہیں کیونکہ اس سے درآمدات سستی ہوتی ہیں اور افراطِ زر یعنی مہنگائی پر قابو پانا آسان ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی قیادت کا نظریہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے جہاں کمزور کرنسی کو برآمدات بڑھانے اور مقامی صنعت کو فائدہ پہنچانے کا ایک ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ بڑی کثیر القومی کمپنیاں اس صورتحال سے خوش دکھائی دیتی ہیں کیونکہ ان کی بیرونِ ملک فروخت سے حاصل ہونے والا منافع جب واپس ملک آتا ہے تو وہ ڈالر میں زیادہ محسوس ہوتا ہے لیکن ملک کے اندر کام کرنے والے چھوٹے کاروبار اس چکی میں پس رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ تاجر جو کینیڈا یا دیگر ممالک سے خام مال یا تیار شدہ سامان منگواتے ہیں ان کے لیے لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
اس معاشی صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ان اشیائ پر پڑ رہا ہے جو روزمرہ استعمال میں آتی ہیں۔ مثال کے طور پر برازیل سے آنے والی قہوہ کی پھلیاں اب مہنگی ہو چکی ہیں کیونکہ برازیلی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت گر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران قہوہ کی قیمتوں میں تقریباً انیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ امریکی جو گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لیے میکسیکو یا یورپی ممالک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اب اپنی جیب سے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ وہاں کی مقامی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر اب پہلے جیسا طاقتور نہیں رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں یہ کمی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ پچھلی کئی دہائیوں سے ڈالر عالمی منڈی میں ایک برتر حیثیت رکھتا تھا لیکن اب اس کی ساکھ کو کئی اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی تنازعات نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اگر ڈالر کی قدر میں مزید کمی آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بین الاقوامی منڈی سے خریدی جانے والی ہر شے کی قیمت مزید بڑھے گی جس کا سارا بوجھ بالآخر صارف کی جیب پر ہی پڑے گا۔ معیشت کے اس نازک موڑ پر جہاں ایک طرف صنعتوں کو فروغ دینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہیں دوسری طرف عام شہری اپنی گرتی ہوئی قوتِ خرید کو بچانے کی فکر میں مبتلا ہے۔ یہ دیکھنا اب اہم ہوگا کہ کیا کمزور کرنسی سے ہونے والا تجارتی فائدہ مہنگائی کے اس طوفان کا مقابلہ کر سکے گا یا نہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here