نیویارک (پاکستان نیوز) ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز تہران سے کیا جائے گا، جہاں امام خمینی ہال میں ایک بڑا تعزیتی اجتماع منعقد ہوگا۔ تہران میں عوامی و سرکاری سطح پر الوداعی تقریب کے بعد ان کی میت کو مقدس شہر مشہد منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔ اگرچہ تدفین کے مقام کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم مشہد میں تدفین کے حتمی دن اور وقت کا تعین تاحال نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے تاکہ سوگواران اور عقیدت مند آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔ ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ سطح کے وفود کی تہران آمد متوقع ہے۔ ان وفود میں خاص طور پر “مزاحمتی بلاک” کے رہنما، بشمول حزب اللہ، حماس اور حوثی قیادت کے نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ روس، چین، ترکی اور پاکستان جیسے دوست ممالک سے بھی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تہران میں مقیم تمام غیر ملکی سفرائ کو بھی امام خمینی ہال میں ہونے والے مرکزی تعزیتی اجتماع میں مدعو کیا گیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر اس موقع پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے سربراہان نے ایرانی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال اور طاقت کے توازن پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عالمی اداروں نے بھی اس حساس موقع پر خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت اور لاکھوں کے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے تہران اور مشہد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تہران سے مشہد تک کے تمام راستوں کی فضائی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ تدفین کے تمام مراحل پرامن طریقے سے مکمل کیے جا سکیں۔








