(پاکستان نیوز)ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف خفیہ دستاویزات کیس کی تحقیقات میں شامل کم از کم 10 اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ برطرفیاں اس وسیع تر اندرونی تحقیقات کا حصہ ہیں جو ان اہلکاروں کے خلاف شروع کی گئی ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے مار اے لاگو اسٹیٹ کیس میں مجرمانہ الزامات عائد کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ کاش پٹیل نے یہ اقدام ان انکشافات کے بعد اٹھایا جن سے معلوم ہوا کہ ایف بی آئی نے ماضی میں خود ان کے اور موجودہ وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کے فون ریکارڈز غیر قانونی طور پر حاصل کیے تھے۔کاش پٹیل نے اپنے بیان میں اسے ‘خوفناک اور تشویشناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ قیادت نے بغیر کسی ٹھوس جواز کے اور نگرانی سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر ان کے ریکارڈز تک رسائی حاصل کی۔ دوسری جانب، ایف بی آئی ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ان برطرفیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بیورو کی مہارت اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد اسپیشل کونسل جیک سمتھ نے ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دئیے تھے۔ ایف بی آئی ایجنٹس ایسوسی ایشن (FBIAA) نے ان برطرفیوں کو پیشہ ورانہ مہارت اور قانونی ضابطوں پر ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ یہ برطرفیاں ‘غیر قانونی’ ہیں کیونکہ ان میں ملازمین کے صفائی پیش کرنے کے قانونی حق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار ایجنٹس کو اس طرح اچانک نکالنے سے بیورو کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوں گی، جس کا براہ راست اثر ملک کی مجموعی سلامتی پر پڑے گا۔ مزید برآں، ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے ادارے کے اندر عدم استحکام پیدا ہوگا اور مستقبل میں باصلاحیت افراد ایف بی آئی میں شامل ہونے سے کترائیں گے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اس پورے معاملے کے قانونی اور سیاسی پہلو بھی کافی پیچیدہ ہیں۔ کاش پٹیل کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ماضی کی قیادت نے ان کے اور سوسی وائلز کے فون ریکارڈز حاصل کرنے کے لیے ‘کمزور بہانے’ تراشے اور اس پورے عمل کو ایسی مخصوص فائلوں میں چھپایا جو کسی بھی قسم کی بیرونی نگرانی یا Oversight سے باہر تھیں۔ یہاں ایک اہم قانونی باریکی یہ بھی ہے کہ تفتیشی ادارے عام طور پر Call Logs (جس میں صرف یہ درج ہوتا ہے کہ کس کو اور کب فون کیا گیا) حاصل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن اسے ‘فون ٹیپنگ’ (گفتگو سننا) کے برابر قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں ہے کیونکہ کال لاگز میں گفتگو کا متن شامل نہیں ہوتا۔ بالآخر، اسپیشل کونسل جیک سمتھ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمات اس لیے ختم کیے کیونکہ امریکی محکمہ انصاف کی دیرینہ پالیسی کے تحت ایک برسرِ اقتدار صدر کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔










