واشنگٹن (پاکستان نیوز) میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی لیڈر حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں کا کوئی بھی ٹھوس جواز فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تاحال ایسی کسی خفیہ معلومات کے منتظر ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ ایران امریکہ پر حملے کی تیاری کر رہا تھا، کیونکہ اب تک ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے ان فوجی اقدامات کو درست ثابت کیا جا سکے۔ حکیم جیفریز کا کہنا تھا کہ امریکی عوام اس حقیقت کو جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی زندگیوں کو بہتر اور سستا بنانے پر توجہ دے، نہ کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور ایسی لامتناہی جنگ کا حصہ بنے جس کا انجام صرف ناکامی ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کے پاس بموں اور جنگی کارروائیوں کے لیے تو اربوں ڈالر موجود ہیں، لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کی بلند لاگت کو کم کرنے کے لیے کوئی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ قانون ساز رہنما نے امریکی آئین کے آرٹیکل ون کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ جیفریز کے مطابق، آئین سازوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ حکمران بادشاہوں کی طرح عوام کو غیر ضروری جنگوں میں دھکیل کر انہیں بدحال اور غیر محفوظ نہ بنا سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صدر کے ان اقدامات کے خلاف ایوان میں ‘وار پاورز ریزولوشن’ پر ووٹنگ کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔













