نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کے سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جب معروف سرمایہ کار کین گریفن نے شہر کے میئر کے امیدوار زہران ممدانی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سیاسی مہم نے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب زہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امیر طبقے پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی وکالت کی اور کین گرفن کو اس مہم کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔ کین گرفن کا موقف ہے کہ ممدانی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں نہ صرف ان کی دولت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی نجی رہائش گاہ کی نشاندہی کر کے انہیں براہ راست سیکورٹی خطرات سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ گرفن نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات بالخصوص ایک نجی کمپنی کے سربراہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کی جان کو سیاسی مفادات کی خاطر داؤ پر لگانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ دوسری جانب زہران ممدانی کی مہم کا بنیادی مقصد شہر میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کو ختم کرنا ہے جس کے لیے وہ امیر ترین افراد پر مخصوص محصولات عائد کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ گرفن نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر شہر میں سرمایہ کاروں کے خلاف اس قسم کی امتیازی پالیسیاں اپنائی گئیں تو اس سے مستقبل کی بڑی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی ماحول اور تحفظات ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ممدانی کے ترجمان نے ان الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا مقصد صرف ایک منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل ہے تاکہ عام شہریوں کے لیے زندگی گزارنا آسان ہو سکے اور اس عمل میں تمام خوشحال افراد کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اس صورتحال نے نیویارک کے سیاسی اور تجارتی مستقبل کے حوالے سے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔











