امریکہ میں آزادیِ اظہار کا زوال: گرین کارڈ کیلئے وفاداری کی شرط

0
18

تجزیہ: اروا مہدوی
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب گاہوں اور سیاسی نظریات کی بنیاد پر گرین کارڈ یعنی مستقل سکونت کے اجازت ناموں کے حصول کے لیے نئی اور کڑی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف انسانی حقوق بلکہ جمہوری اقدار کے بنیادی ستون یعنی اظہار رائے کی آزادی پر ایک سنگین حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت ہجرت کے معاملات پر مامور افسران کو یہ خصوصی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں کہ وہ درخواست گزاروں کے ماضی کے بیانات، سماجی روابط کی سرگرمیوں اور ان کے سیاسی رجحانات کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ خاص طور پر اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید یا فلسطین کے حق میں بلند ہونے والی آوازوں کو براہ راست سام دشمنی یا ریاست مخالف نظریات سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اب امریکی شہریت یا مستقل سکونت کا حصول صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہوگا جو حکومتی پالیسیوں کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے۔
اس نئی قانون سازی کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ سام دشمنی کی تعریف کو اس قدر وسعت دے دی گئی ہے کہ اس میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی یا انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اگر کوئی طالب علم یا پیشہ ور فرد اپنی فکری بنیادوں پر فلسطینی عوام کے دکھوں کا ذکر کرتا ہے یا مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو اسے اب امریکی مفادات کا دشمن تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام سے تعلیمی اداروں اور فکری حلقوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ہے جسے ماہرین خاموشی کا چکر قرار دے رہے ہیں۔ لوگ اب اپنی رائے کا اظہار کرنے سے کترانے لگے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کا ایک برقی پیغام یا کسی احتجاجی مظاہرے میں شرکت ان کے مستقبل کو تاریک کر سکتی ہے۔
صحافتی اور علمی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ کیا کوئی ملک جو خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، اس طرح کے جابرانہ قوانین کا متحمل ہو سکتا ہے۔ 4 مئی 2026 کو سامنے آنے والی ان تفصیلات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب نظریاتی تطہیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس قانون کی زد میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ وہ دانشور اور طلبہ بھی آ رہے ہیں جو برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ مثال کے طور پر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ان نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہوں نے اخبارات میں مقالے لکھے یا مظاہروں میں شرکت کی۔ یہ طرز عمل دراصل اس آئینی تحفظ کی نفی ہے جو ہر انسان کو اپنی سوچ اور فکر کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔
مستقبل قریب میں اس پالیسی کے اثرات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ جب ریاست یہ طے کرنے لگے کہ کون سا نظریہ درست ہے اور کون سا غلط، تو وہاں تخلیقی اور تنقیدی سوچ دم توڑ دیتی ہے۔ اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کو ملک دشمنی قرار دینا دراصل سیاسی مقاصد کے لیے قانون کا غلط استعمال ہے۔ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ صرف ایک مخصوص مسئلے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر اس آواز کو دبانے کے لیے استعمال ہوگا جو مروجہ نظام سے اختلاف کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ انصاف اور مساوات کے اصولوں کو برقرار رکھا جا سکے۔ اظہار رائے پر اس طرح کی قدغنیں لگانا کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سوچ پر پہرے بٹھائے گئے، اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here