خلیج میں بڑھتی خلیج اور مسلم امہ مزید تقسیم کا شکار

0
17

نیویارک (پاکستان نیوز) عالم اسلام اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں صدیوں پرانے اتحاد پاش پاش ہو رہے ہیں اور مصلحتوں کے نئے لبادے اوڑھے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ برسوں میں ابھرنے والے تزویراتی اختلافات محض دو پڑوسی ممالک کی معاشی مسابقت نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں جو مشرق وسطیٰ کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتی ہے۔ ایک طرف تیل کی پیداوار پر قابو پانے کی جنگ ہے تو دوسری طرف علاقائی بالادستی کا وہ جنون جس نے برادر ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم سے علیحدگی کا فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب وہ اپنی معاشی منزل کا تعین کرنے کے لیے ریاض کی قیادت کا مرہون منت رہنے کو تیار نہیں۔ یہ معاشی انحراف اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے جب ہم اسے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ موجودہ جنگی صورتحال میں متحدہ عرب امارات کا جھکاؤ تل ابیب کی جانب ہونا محض ایک سفارتی مجبوری نہیں بلکہ ایک گہرا تزویراتی انتخاب بن چکا ہے۔ جب ایک مسلم ریاست اپنے دفاع اور معیشت کی بقا کے لیے صیہونی ریاست کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں مصروف ہوتی ہے، تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اس گریٹر اسرائیل کے تصور کو ایندھن فراہم کر رہی ہوتی ہے جس کا مقصد دریائے نیل سے لے کر فرات تک اپنی بالادستی قائم کرنا ہے۔ یہ تقسیم مسلم دنیا کے قلب میں ایک ایسا شگاف ڈال رہی ہے جس کا فائدہ براہ راست ان طاقتوں کو پہنچ رہا ہے جو مسلمانوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر ان کے وسائل پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مرکزیت کمزور ہوئی، بیرونی قوتوں نے اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے؛ ایک طرف وہ بلاک ہے جو اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کا خواہش مند ہے، اور دوسری طرف سعودی عرب جیسا ملک ہے جو اب اپنی بقا کی خاطر تل ابیب کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے خوفزدہ ہو کر تہران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف مائل نظر آتا ہے۔ اسی تزویراتی کھینچاتانی کے بیچ آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے شروع کی گئی فوجی مہم پروجیکٹ فریڈم کا اچانک تعطل، جو سینکڑوں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے وضع کی گئی تھی، اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوجی آپریشن روک کر سفارتی مذاکرات کو ترجیح دینے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حدود میں امریکی بیڑوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں پاکستان کا کردار ایک اہم پل کے طور پر ابھرا ہے، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چودہ نکاتی امن فارمولے پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی بحری ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے، لیکن پاکستان کی یہ ثالثی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ مسلم دنیا کے کچھ حصے اب بھی اس تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو بصورتِ دیگر صیہونی عزائم کی تکمیل کا راستہ ہموار کر دیتا۔ یہ نئی صف بندی مسلم امہ کے تصور کو بری طرح مجروح کر رہی ہے۔ جب عرب ریاستیں آپس میں دست و گریبان ہوتی ہیں اور معاشی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپتی ہیں، تو اسرائیل کو وہ سیاسی خلا میسر آتا ہے جہاں وہ خود کو خطے کا واحد مستحکم ستون ثابت کر سکتا ہے۔ صیہونی ریاست کا یہ خواب کہ وہ پورے خطے کا معاشی اور فوجی مرکز بن جائے، اب حقیقت کے قریب تر معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسے اب کسی متحدہ مسلم مزاحمت کا سامنا نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کی پشت پناہی اور سعودی عرب کا اپنی قیادت کو بچانے کے لیے دفاعی حصار قائم کرنا دراصل گریٹر اسرائیل کی تعمیر کے لیے وہ ہموار راستہ فراہم کر رہا ہے جس کا تصور شاید چند دہائیاں قبل نامکن تھا۔ 2026 کے ان ہولناک واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ معاشی بائیکاٹ اور تزویراتی تنہائی کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں۔ اگر مسلم دنیا کے ان دو اہم ستونوں کے درمیان یہ خلیج اسی طرح بڑھتی رہی، تو وہ دن دور نہیں جب فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا اور خطے کی تقدیر کا فیصلہ صیہونی ایوانوں میں کیا جائے گا۔ یہ وقت مصلحت پسندی کا نہیں بلکہ اس شعور کی بیداری کا ہے کہ آپسی انتشار ہی دشمن کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ گریٹر اسرائیل کا ابھرتا ہوا سایہ کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کی خودمختاری کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جو اب دیوار پر لکھا جا چکا ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اسے پڑھنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here