ایرانی نژاد امریکیوںکیخلاف نفرت انگیز واقعات میں ریکارڈ اضافہ

0
15

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکہ میں مقیم ایرانی نژاد شہریوں کیخلاف نسلی امتیاز اور تعصب کی لہر میں حالیہ برسوں کے دوران تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو چونکا دیا ہے۔ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار سیمرہ محی الدین نے اس حساس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی برادری کو محض ان کے پس منظر کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کا براہ راست اثر وہاں بسنے والے عام شہریوں پر پڑ رہا ہے جنہیں اکثر ریاست کی پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ تعصب صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی کے اہم شعبوں میں بھی نمایاں ہیں۔ ایرانی نڑاد افراد کو بینکنگ کے نظام میں رکاوٹوں، ملازمتوں کے حصول میں دشواریوں اور کڑی نگرانی جیسے مسائل کا سامنا ہے جو انہیں دوسرے درجے کا شہری محسوس کرانے کا باعث بن رہے ہیں۔ سیمرہ محی الدین کے مطابق میڈیا بھی اس نفرت کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جہاں ایرانیوں کی تصویر کشی اکثر منفی انداز میں کی جاتی ہے جس سے عام امریکیوں کے ذہنوں میں ان کے بارے میں غلط تصورات جنم لیتے ہیں۔ اس صورتحال نے نئی نسل کے ایرانی امریکیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے جو اپنی شناخت اور وفاداری کے حوالے سے مسلسل دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی سیاسی معاملات کو انسانی حقوق سے الگ کر کے نہیں دیکھا جائے گا تب تک تارکین وطن کے خلاف اس قسم کے تعصب کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور یہ رویہ جمہوری اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here