چین میں امریکہ کا جاسوسی نیٹ ورک؛ اعلیٰ فوجی جنرلز کیخلاف کریک ڈاؤن

0
5

بیجنگ(پاکستان نیوز)چین میں فوجی قیادت کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اعلیٰ ترین جنرلز کی گرفتاریوں اور ان کے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ مبینہ روابط کی خبروں نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کے انتہائی قریبی ساتھی اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ڑانگ یوشیا کو ان کے عہدے سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا ہے جن پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی حساس اور تکنیکی معلومات امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو فراہم کیں۔ ان گرفتاریوں کا سلسلہ 2026 کے آغاز سے شروع ہوا جس میں جنرل لیو ڑین لی سمیت کئی دیگر اعلیٰ افسران کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو ملکی سالمیت کے خلاف ایک بڑی سازش قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب سی آئی اے نے اپنی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے چینی زبان میں ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد بیجنگ کی فوجی قیادت میں موجود مایوس افسران کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔ بیجنگ نے اس صورتحال کے جواب میں اپنے جاسوسی مخالف قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے اور فوج کے اندر بیوفائی کرنے والے عناصر کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ان واقعات کو دہائیوں کے بعد چینی عسکری ڈھانچے میں سب سے بڑی تبدیلی اور اندرونی سیاسی بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے اثرات خطے کی سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here