امریکی فوج اسرائیل کیلئے نہیں لڑنا چاہتی، سابق امریکی فوجی کا احتجاج

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز) واشنگٹن میں ہونیوالی ایک اہم پارلیمانی سماعت اس وقت میدان جنگ بن گئی جب سابق بحری سپاہی اور فائر فائٹر برائن میگنیس نے ایران اور اسرائیل کے تنازع میں امریکی مداخلت کیخلاف دہائی دی اور انہیں سینیٹر ٹم شیہی اور دارالحکومت کی پولیس نے زبردستی ہال سے باہر نکال دیا جس کے دوران ان کا بازو بری طرح ٹوٹ گیا اور اب وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ان کے خاندان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق انہیں اپنے وکیل اور شریک حیات سے ملنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ ان کے چار بچے اپنے والد کی صحت یابی کے منتظر ہیں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے جو ملک کے نوجوانوں کو جنگ کی آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا اس واقعے کے بعد ملک بھر کی سماجی تنظیموں اور سابق فوجیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں کیونکہ اگر ایک سابق محافظ کو سر عام نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو پھر کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہے اور برائن میگنیس پر پولیس افسر پر حملے اور مزاحمت کے سنگین مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔ جس کے باعث ان کی قانونی جدوجہد مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ سابق امریکی فوجی اور گرین پارٹی کے امیدوار برائن میگنیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ اس واقعے نے ان کے حوصلے مزید بلند کر دئیے ہیں اور غصے کے ساتھ ساتھ ان کا عزم بھی مضبوط ہوا ہے جبکہ ان کا مقابلہ ریٹائر ہونے والے سینیٹر تھام ٹلس کی نشست کے لیے ہے اور وہ جنگ مخالف مہم چلا رہے ہیں۔ سماعت کے دوران جب برائن میگنیس نے نعرے بازی شروع کی تو وہاں موجود سینیٹر ٹم شیہی بھی پولیس کی مدد کو پہنچے اور مظاہرین کو باہر نکالنے میں شامل ہوئے جبکہ پولیس کے مطابق اس جھڑپ میں تین اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور امیدوار پر پولیس افسر پر حملہ کرنے اور گرفتاری میں مزاحمت کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب سینیٹر ٹم شیہی نے احتجاج کرنے والے امیدوار کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ٹکراؤ کے لیے آئے تھے اور انہوں نے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کی۔ امریکی سینیٹ کی انتخابی مہم کے دوران قید اور تشدد کا نشانہ بننے والے سابق فوجی برائن میگنیس کی حالت تشویشناک ہے اور ان کے اہل خانہ نے ہسپتال میں ان کی سرجری اور قانونی رسائی نہ ملنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here