نیویارک (پاکستان نیوز) امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے اپنی جماعت کے اراکینِ پارلیمان کی جانب سے مسلمانوں کیخلاف دئیے گئے حالیہ متعصبانہ بیانات کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور صرف اس بات پر اکتفا کیا کہ انہوں نے متعلقہ اراکین سے ان کے لہجے کے بارے میں بات کی ہے۔ فلوریڈا میں اپنی جماعت کے ایک اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ انہوں نے تمام اراکین کو اپنے پیغام اور زبان کے چناؤ کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے ان اراکین کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جنہوں نے مسلمانوں کی امریکی معاشرے میں موجودگی پر سوالات اٹھائے تھے۔ جانسن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس حوالے سے شدید جذبات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ میں شریعہ قانون نافذ کرنے کا مطالبہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہی وہ فکر ہے جو ان بیانات کو تحریک دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ خود ایسی زبان استعمال نہیں کرتے لیکن وہ اسے ایک اہم مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس تنازعے کا آغاز ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن اینڈی اوگلز کے اس بیان سے ہوا جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ مسلمان امریکی معاشرے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نیویارک کے ایک مسلمان سیاستدان کی ملک بدری کا مطالبہ بھی کیا۔ دوسری جانب ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے رینڈی فائن نے بھی مسلمانوں کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے ان کا موازنہ کتوں سے کیا تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز اور مذہبی رواداری کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حکیم جیفریز نے سپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اراکین کا محاسبہ کریں، تاہم سپیکر نے تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اسے محض ایک سیاسی مسئلے کے طور پر پیش کیا ہے۔










