ہمارے ہیوسٹن میں سب سے بڑا مسئلہ ہمارے دیسیوں کے درمیان آپس کے اختلافات ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ہم کبھی ایک ہوتے ہوئے نظر نہیں آئے، جیسے چاند کے مسئلے پر اب بھی ہم متحد نہیں ہیں، اس دفعہ بھی روزے ایکساتھ نہیں ہوئے اور پتہ نہیں کہ عید کے دن کیا ہوگا، ہم پھر سے دو عیدیں منائیں گے نئی نسل جس طرف جا رہی ہے وہ پرانے خیالوں کو نہیں مانتی وہ زیادہ تر آئی ایس جی ایچ کو مانتی ہے جو چاند کی روئیت کا صرف اعلان کرتے ہیں لیکن چاند دیکھ کر اعلان نہیں کرتے ہمارے نئے صدر عمران غازی نے میئر افطار میں بھی اعلان کیا ہے کہ چاند دیکھ کر اعلان کرینگے، عید کا چاہے پورے امریکہ و کینیڈا میں چاند نظر نہ آئے سعودی عرب میں جیسے ہی اعلان ہوگا وہ اعلان کر دینگے یہ لوگ بیٹھ کیوں نہیں جاتے تاکہ کمیونٹی کو تفرقے سے بچا سکیں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو میجورٹی فیصلہ کرے وہ مان لیا جائے جبکہ حدیث کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں پورے امریکہ چلی، کینیڈا میں چاند کی روئیت نہیں ہوتی مگر ان کو شہادت مل جاتی ہے اب کس کو کون سی شب قدر ملتی ہے یہ فیصلہ تو علماء کرام کو ہی کرنا ہے جو جس کو فالو کر رہا ے اسی حساب سے ثواب و گناہ اُسی عالم دین کی گردن پر ہوگا اگر وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے اب آجائیں سیاست کی طرف جس طرح شوگرلینڈ فورڈ بینڈ کائونٹی الیکشن میں ہم دیسیوں نے کیا کچھ نہیں کیا ہم لوگ ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے اور کوئی نہیں سُنتا ہماری کمیونٹی لیڈران کو چاہیے کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں اور جو بھی امیدوار اپنی تعلیم اور تجربے میں جس لائق ہوا اُسی حساب سے اُس کو کھڑا کیا جائے دوسری کمیونٹی کے لوگ مذاق اُڑاتے ہیں جب ہم پولنگ بوتھ پر آپس میں جھگڑے گالی گلوچ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ووٹ بٹ جاتے ہیں سونے پہ سہاگہ ایک تو ہماری کمیونٹی ووٹ ہی نہیں ڈالنے جاتی اور ہمارے ووٹوں کی تعداد بھی اتنی نہیں ہے کہ وہ اپنے ووٹوں سے کسی کو جتوا سکے ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر سب ووٹ ڈالیں تو رزلٹ مختلف ہو سکتا ہے سوائے ڈاکٹر سلیمان لالانی کے کوئی بھی نمائندہ جیت نہیں سکا سوائے سارہ خان کے جو اپنی محنت اور قابلیت کی بناء پر رن آف میں آگئی ہے جبکہ ہمارے کمشنر کے دونوں امیدوار ہارون مغل اور نبیل شائق جو کہ اچھے دوست تھے لیکن ایک دوسرے کے مقابل آگئے اور کس بُری طرح ہارے ہیں کیا اب بھی انہیں اپنے کیے پر پچھتاوا نہیں اور اپنی حیثیت کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔ ہر کوئی علی شیخانی نہیں بن سکتا۔ جس طرح سارہ خان اور رحیم روپانی کے درمیان مقابلہ ہوا، ہارون مغل اور نبیل شائق مل کر الیکشن لڑتے تو یقیناً دونوں میں سے کوئی ایک تو رن آف میں آجاتا۔ اب وقت آگیا ہے ہمارے لیڈران کو فوری طور پر بیٹھنا ہوگا اور تمام امیدواروں کے درمیان جو اختلافات تھے وہ ختم کروا کر اپنی واحد نمائندہ جو رن آف میں آگئی ہے اُس کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ کم از کم ایک اور ہمارا نمائندہ کائونٹی میں ہماری نمائندگی کرے اور یہ تہیہ کر لیں کہ ایک دوسرے کیخلاف نہیں کھڑے ہونگے چاہے وہ ری پبلکن ہو یا ڈیمو کریٹ ایک ہی پوسٹ پر ایک دوسرے کیخلاف نہ کھڑے ہوں ورنہ صرف اپنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے سواء کوئی دوسرا فائدہ نہیں ہوگا الیکشن سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ خُدارا ایک دوسرے کیخلاف نہ کھڑے ہوں اب ہم کو تمام باتوں سے بالا تر ہو کر سوچنا ہے کہ ہم رن آف میں اپنی واحد امیدوار سارہ خان کو سپورٹ کریں تاکہ آئندہ آنے والے الیکشن میں ہماری نمائندگی میں اضافہ ہو سکے شاید ہماری کمیونٹی میری اس درخواست پر غور کرے۔
٭٭٭














