کرکٹ کی دنیا کا درخشندہ ستارہ سوریا ونشی!!!

0
16
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان اور ہندوستان میں بظاہر کرکٹ میں بہت زیادہ اختلافات چل رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کی کرکٹ اس وقت دنیا کی بہترین ٹیمیں شمار کی جاتی ہیں اور ان دونوں کے درمیان کرکٹ نہ ہونا یہ کرکٹ کیساتھ بہت زیادتی ہے یہ سب کچھ سیاست دانوں کی وجہ سے ہو رہا ہے ورنہ دونوں ممالک کے لوگ کرکٹ سے بہت پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کرکٹ کھیلیں لیکن اس معاملے میں انڈین بورڈ بہت زیادہ سختی اختیار کئے ہوئے ہے اور پاکستان کیساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ہے شاید وہ بھی مجبور ہے کیونکہ مودی حکومت اپنی سیاست کو چمکانے میں لگی ہوئی ہے مگر وہاں کی عوام پاکستان کیساتھ میچ کھیلنا چاہتی ہے جس طرح آئی پی ایل کے فائنل کیلئے انڈین بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو دعوت دی تھی جس پر انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ جب انڈین ٹیم نے ایشیاء کپ کی ٹرافی محسن نقوی سے لینے سے انکار کر دیا تھا تو محسن نقوی کا آئی پی ایل فائنل میں شرکت کرنے سے انکار ہی بنتا تھا اس لئے محسن نقوی نے آئی پی ایل فائنل میں شرکت کرنے سے انکار کر کے انڈین بورڈ کے منہ پر ایک طمانچہ مارا تھا بہرحال کرکٹ میں سیاست کا دخل انداز نہیں ہونا چاہیے پاکستان میں پی ایس ایل ختم ہو گئی اور پاکستان میں بڑے نوجوان کھلاڑی سامنے آئے اور نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے اور جس کو بھی موقع ملا اس نے خُوب پرفارمنس دی اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ اگر سرفراز احمد کو کوچ رہنے دیا گیا جس کی امید نظر نہیں آرہی کیونکہ جس طرح شاداب اور حارث رئوف کو چانس دیا گیا ہے اور نئے نوجوان اسپنر مقیم اور فاسٹ بائولر علی رضا کو چانس دینا چاہیے تھا مگر شاداب اور حارث رئوف کو چانس دے کر نئے ٹیلنٹ کو نظرانداز کر دیا گیا۔ آسٹریلیا کیخلاف دو کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا اور دونوں کھلاڑیوں نے پرفارمنس دیدی۔ وکٹ کیپر غازی غوری اور آل رائونڈر عرفات منہاس نے جو پرفارمنس دی وہ سب کے سامنے ہے اور اب سینئرز کو سوچنا پڑے گا کہ وہ خود ہی ریٹائرمنٹ لے لیں ورنہ ان کی پرچیاں کب تک چلیں گی ایک دن ان کو بے عزت کر کے نکالا جائیگا۔ ہمارے ہیوسٹن میں پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر، اینکر اور کوچ ساجد خان نے اپنے ہر تبصرہ میں یہی رونا روتے رہتے ہیں کہ نئے لڑکوں کو لایا جائے سرفراز کو فری ہینڈ دیا جائے تاکہ وہ نئے بچوں کو آگے لا سکیں لیکن ہماری کرکٹ میں جب تک پرچی سسٹم ختم نہیں ہوگا کرکٹ میں بہتری نہیں آئیگی۔ اس کے برعکس انڈین کرکٹ میں صرف اور صرف ٹیلنٹ اور کارکردگی کی بنیاد نیا ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے جہاں تک ویرات کوہلی کی بات کریں وہ اس وقت سب سے زیادہ فٹ کھلاڑی ہے اور اس نے اپنے کھیل اور فٹنس سے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی کنگ ہے ہم بابر اعظم سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں بابر اعظم کو ابھی بہت وقت چاہیے اس کو اللہ نے عزت دی ہے وہ ریکارڈز میں آگے ہے لیکن ویرات کوہلی کے سامنے کچھ نہیں ہے اور ہاں اب ایک نیا بچہ جو انڈین کرکٹ میں آیا ہے سوریا ونشی اس کو دیکھتے ہوئے تو یہی کہنا ہوگا کہ وہ اس عمر میں ایسا کھیل رہا ہے تو وہ آگے چل کر کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا کرکٹر بن جائیگا۔ اس عمر میں نہ تو سچن ٹنڈولکر اور نہ ہی ویرات کوہلی میں وہ ٹیلنٹ تھا جو اس بچہ میں نظر آرہا ہے وہ جس تیزی اور خوبصورت شارٹس کھیلتا ہے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ انڈین کرکٹ میں تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ انڈیا میں ویسے تو نئے بہت ہی عمدہ کھلاڑی آئے ہیں جس میں شبمن گل، ابھیشک شرما اور دوسرے کئی کھلاڑی ہیں لیکن انڈیا کو چاہیے کہ اپنے اس ہیرے کو سنبھال کر رکھیں ایسے ہیرے صدیوں میں ملتے ہیں سوریا ونشی ہندوستان کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جو انڈین کرکٹ کو روشن کرتا رہیگا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here