صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک ماہ میں تین مرتبہ قاتلانہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک حصہ بن گیا ہے اور مورخ اِن واقعوں کو تحریر کرکے بحفاظت با غلاف طاق پر رکھ رہے ہیںیا یہ کہیے کہ کمپیوٹر کی ڈِسک میں محفوظ کر رہے ہیں۔ اِن واقعوں کا صدر امریکا کے دماغ پر کیا اثر پڑا ہے یہ ایک علیحدہ موضوع بحث ہے ۔ اُنکی بہکی بہکی باتوں کا زبان پر لانا مثلا ” ” آج کی رات ایک پوری تہذیب فنا ہوجائیگی اور وہ پھر کبھی واپس نہ آسکے گی۔ ” لوگوں کو چو کا کر رکھ دیا تھا ۔ لوگ یہ سوچنے لگے تھے کہ بندے نے ٹھرّا پی لیا ہے یا وہ جنگل میں کسی چڑیل کا نظارہ کرلیا ہے۔ لیکن لوگ جانتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹھرّا نہیں پیتے ہیں اور اگر وہ اپنے آپ کو چند غلاظت سے صاف ستھرا کرلیں تو مُصلی بن جائینگے۔ حملے کے بعد وہ خوفزدہ ہوسکتے ہیں، چوہے کو دیکھ کر ڈائنوسار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈائنوسار کی چیخ لگاسکتے ہیں۔ ہر وقت آگے پیچھے ، نیچے اوپر دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی شخص اُن پر اپنی چھتری سے حملہ آور تو نہیں ہورہا ہے۔ یا کوئی شخص دیواروں کے پیچھے چھپا اُن کا انتظار تو نہیں کر رہا ہے۔ آسمان سے ڈرون بھی نازل ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ سارے خطرے ٹل سکتے ہیں جس طرح ماضی میں بے سود بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم اِس کے اثرات اُن کی بیگم اور فرسٹ لیڈی میلانیا پر کس طرح پڑے تھے اِسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، خصوصی طور پر جبکہ جمی کیمل نے اُنہیں ” متوقع بیوہ ” قرار دے دیا ہے۔ بعد ازاں اُس کا کہنا تھا کہ اُسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کی عمر میں 23 کا سال طویل فرق ہمالہ کی چوٹی اور اُس کے دامن کا فاصلہ نظر آیا تھا۔ تاہم یہ چہ مگوئیاں زبان زد عام ہے کہ موصوفہ اپنا سوئٹ ہارٹ تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اُن کی ترجیح ایسی ہی ہوگی جیسے ماضی میں اُن کا جیون ساتھی اُن سے 23 سال زیادہ کا تجربہ کار تھا( میرج بیورو والے اِسی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں) اِسلئے وہ مستقبل میں اپنی عمر سے 25 سال سے کم عمر کے منڈے کو اپنا شریک حیات بنائینگی۔ صدر کی بیوہ کو اپنا جیون ساتھی کیسا بنانا چاہیے یہ بھی ایک متنازع سوال ہے لیکن اگر صدر خود ہی احمق ہو اور جو محض اپنی دولت کی وجہ کر صدر بن گیا ہو تو اُس کی فرسٹ لیڈی کیلئے کوئی معیار کا رکھنا بے سود ہے، خصوصی طور پر جب شادی دولت اور سیکس کے درمیان ہو۔
میلانیا سے قبل ایک اور سابقہ فرسٹ لیڈی جیکولین کینیڈی کو اپنا جیون ساتھی تلاش کرنا پڑا تھا اور وہ بھی کسی صحافی ، پروفیسر یا سابق فوجی جنرل کے بجائے دنیا کے ایک امیر ترین شپنگ کمپنی کے مالک اوناسس کو منتخب کیا تھا تاکہ گروسری خریدنے یا گاڑی کے آئل چینج کرانے کی جھنجٹ سے بچ سکیں۔ شادی سے قبل اوناسس اور جیکولین کے مابین یہ معاہدہ ہوا تھا کہ مرنے کے بعد وہ اُنہیں بلین ڈالر کے قریب کی رقم چھوڑے گا۔ اوناسس کا تعلق یونان سے تھا جبکہ جیکولین ایک خالص امریکن تھیں جو اوناسس کی موت کے بعد ایک پبلشنگ ہاؤس ڈبل ڈے کی مالک بنی تھیں ۔
دنیا کے جتنے نا اہل صدر ہوتے ہیں وہ اپنے اردگرد چمچوں کی لاتعداد نفری رکھتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اِس ضمن میں پیش پیش ہیں۔ یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ جب صدر ٹرمپ کی کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے تو بجائے کسی مسائل کو حل کرنے کے سب کے سب اُن کی گُن گانا شروع کردیتے ہیں۔ کابینہ کی ایک حالیہ میٹنگ میں تو سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سارے دوسرے سیکرٹریز کو یک دم پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اجلاس کے شروع ہوتے ہی اُنہوں نے فرمایا کہ ” دنیا میں واحد ہی کوئی رہنما ہے جو دو فریقوں کو گفت شنید کیلئے ایک ٹیبل پر یکجا کرسکتا ہے اور وہ ہے ہمارا صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ میرا موقف روس اور یوکرین کی جنگ سے ہے ۔ اِس کرہ ارض پر صرف آپ ہی ایک رہنما ہیں جس نے دونوں فریقوں کو یکجا کیا اور اِس جنگ کا خاتمہ کروایا۔ اور آپ نے اُن حالات میں اِسے ختم کروایا جب آپ جانتے تھے کہ دوسرے ممالک اِس میں ملوث ہیں اور اِس جنگ کو ختم کرانے میں اُن کا اپنا مفاد وابستہ ہے۔ دنیا میں امن کی امید صرف امریکی صدر سے وابستہ ہے۔ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے مابین جنگ اِس کی بہترین مثال ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلیفون اٹھایا تھا اور اُن دونوں ممالک کے سربراہوں کو یہ حکم دیا تھا کہ جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے، اور جنگ 72 گھنٹے کے اندر رُک گئی تھی۔
یہ صدر امریکا کی مداخلت کے بغیر ناممکن تھا۔ صدر امریکا نے غزہ اور اسرائیل کی جنگ کو بھی ختم کرانے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا ، اور حقیقت میںیہ اُن کے سوا کسی اور ملک کے سربراہ کی دسترس میں نہیں تھا جو اِس جنگ کو رکوا سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر لاکھوں کام انجام دینے پڑتے ہیں اور اُن کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی توجہ کو ایک جانب مبذول کرسکیں”۔ ایک اندازے کے مطابق کابینہ کی میٹنگ میں سیکریٹریز کی جانب سے کی ہوئی تقریروں میں ہر چھ جملے پر ایک جملہ صدر کی تعریف کیلئے ہوتا ہے۔ مارکو روبیو کے بعد ٹریزری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ صدر کی تعریف کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ امریکا کو عظیم ملک دوبارہ بنانے کے نعرے کی تعریف کرتے ہوکہا کہ اِس کے رہنما نے امریکا کو بدل کر رکھ دیا ہے اور سنہرے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ اور اِس ملک کو دنیا میں سب سے بہتر ملک بزنس کرنے کیلئے بنادیا ہے۔ اِسمال بزنس ایڈمنسٹریشن کی سیکرٹری کیلی لوفلر نے صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوے کہا کہ اُنہوں امریکا کو دوبارہ ایک تعمیر کرنے والا ملک بنا دیا ہے اور اُن کی قیادت میں امریکا کی معشیت ترقی کی راہ پر گامزن اور دنیا کی سب سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔













